منشیات کی روک تھام؛ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو براہ راست اشیاء کی ڈیلیوری روکنے کا حکم
اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے منشیات کی روک تھام کیس میں تعلیمی اداروں میں طلبہ کو براہ راست اشیاء کی ڈیلیوری روکنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، نوجوانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے والا ملزم بلال عباس CCD کے مقابلے میں ہلاک
تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام اور آگاہی کیلئے تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق کپتان اظہر علی نے پی سی بی سے اختلاف پر سیلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا
عدالتی احکامات
عدالت نے حکم دیا کہ طلبہ کو براہ راست ڈلیوریز روکیں، اور جو سکول اور کالج عمل درآمد نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ نیشنل اینٹی نارکوٹکس کونسل کی تشکیل کے بارے میں بھی سیکرٹری کابینہ سے رپورٹ طلب کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں تاریخی فتح پر ملک بھر میں یوم تشکر، افواجِ پاکستان کو خراج تحسین
جسٹس کا استفسار
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ نیشنل اینٹی نارکوٹکس کونسل کیوں نہیں بنی؟ یہ بڑی ہائی پاور کونسل ہے، جس کے سربراہ وزیر اعظم ہیں اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ منشیات سکولوں اور کالجوں میں داخل کیسے ہوتی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: جسٹس منصور کو 16 کروڑ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ کو 15 کروڑ پنشن کی مد میں مل گئے۔
منشیات کی فراہمی کے ذرائع
جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ کوریئر اور ڈلیوری والوں کے ذریعے سکولوں اور کالجوں میں منشیات پہنچتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں سے منگوانے والی اشیاء مثلاً پیزا کے ساتھ ساتھ منشیات بھی پہنچائی جا رہی ہیں۔ آپ کو اس پر پابندی لگانی ہے۔
عمل درآمد کی ہدایت
جسٹس انعام امین منہاس نے ہدایت کی کہ آپ اس پر عمل درآمد کر کے آئندہ تاریخ پر رپورٹ پیش کریں، اور چیک کریں کہ کن کن سکولوں اور کالجوں میں کثرت سے ڈائریکٹ ڈلیوریز ہو رہی ہیں۔ جو اسکول اور کالج عمل درآمد نہیں کرتے ان کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 28 مئی تک ملتوی کر دی۔








