منشیات کی روک تھام؛ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو براہ راست اشیاء کی ڈیلیوری روکنے کا حکم
اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے منشیات کی روک تھام کیس میں تعلیمی اداروں میں طلبہ کو براہ راست اشیاء کی ڈیلیوری روکنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات کا سرکاری ٹی وی میں مالی کو پروڈیوسر لگائے جانے کا انکشاف
تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام اور آگاہی کیلئے تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں معمولاتِ زندگی بحال، پابندیاں ختم
عدالتی احکامات
عدالت نے حکم دیا کہ طلبہ کو براہ راست ڈلیوریز روکیں، اور جو سکول اور کالج عمل درآمد نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ نیشنل اینٹی نارکوٹکس کونسل کی تشکیل کے بارے میں بھی سیکرٹری کابینہ سے رپورٹ طلب کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات، خاتون اول محترمہ آمینہ اردوان بھی موجود
جسٹس کا استفسار
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ نیشنل اینٹی نارکوٹکس کونسل کیوں نہیں بنی؟ یہ بڑی ہائی پاور کونسل ہے، جس کے سربراہ وزیر اعظم ہیں اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ منشیات سکولوں اور کالجوں میں داخل کیسے ہوتی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی دہشت گردی کیخلاف قرارداد منظور
منشیات کی فراہمی کے ذرائع
جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ کوریئر اور ڈلیوری والوں کے ذریعے سکولوں اور کالجوں میں منشیات پہنچتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں سے منگوانے والی اشیاء مثلاً پیزا کے ساتھ ساتھ منشیات بھی پہنچائی جا رہی ہیں۔ آپ کو اس پر پابندی لگانی ہے۔
عمل درآمد کی ہدایت
جسٹس انعام امین منہاس نے ہدایت کی کہ آپ اس پر عمل درآمد کر کے آئندہ تاریخ پر رپورٹ پیش کریں، اور چیک کریں کہ کن کن سکولوں اور کالجوں میں کثرت سے ڈائریکٹ ڈلیوریز ہو رہی ہیں۔ جو اسکول اور کالج عمل درآمد نہیں کرتے ان کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 28 مئی تک ملتوی کر دی۔








