منشیات کی روک تھام؛ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو براہ راست اشیاء کی ڈیلیوری روکنے کا حکم
اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے منشیات کی روک تھام کیس میں تعلیمی اداروں میں طلبہ کو براہ راست اشیاء کی ڈیلیوری روکنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: دھی رانی پروگرام کے تحت اجتماعی شادیوں کے باقاعدہ آغاز کا فیصلہ، پہلی تقریب کس شہر میں ہو گی؟ جانیے
تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام اور آگاہی کیلئے تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: سابق پولیس سربراہ کا انسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف، حسینہ واجد پر فرد جرم عائد
عدالتی احکامات
عدالت نے حکم دیا کہ طلبہ کو براہ راست ڈلیوریز روکیں، اور جو سکول اور کالج عمل درآمد نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ نیشنل اینٹی نارکوٹکس کونسل کی تشکیل کے بارے میں بھی سیکرٹری کابینہ سے رپورٹ طلب کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا؟
جسٹس کا استفسار
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ نیشنل اینٹی نارکوٹکس کونسل کیوں نہیں بنی؟ یہ بڑی ہائی پاور کونسل ہے، جس کے سربراہ وزیر اعظم ہیں اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ منشیات سکولوں اور کالجوں میں داخل کیسے ہوتی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 9 مقامات کو نشانہ بنایا، میزائل حملوں کے بعد بھارت کا موقف بھی آگیا
منشیات کی فراہمی کے ذرائع
جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ کوریئر اور ڈلیوری والوں کے ذریعے سکولوں اور کالجوں میں منشیات پہنچتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں سے منگوانے والی اشیاء مثلاً پیزا کے ساتھ ساتھ منشیات بھی پہنچائی جا رہی ہیں۔ آپ کو اس پر پابندی لگانی ہے۔
عمل درآمد کی ہدایت
جسٹس انعام امین منہاس نے ہدایت کی کہ آپ اس پر عمل درآمد کر کے آئندہ تاریخ پر رپورٹ پیش کریں، اور چیک کریں کہ کن کن سکولوں اور کالجوں میں کثرت سے ڈائریکٹ ڈلیوریز ہو رہی ہیں۔ جو اسکول اور کالج عمل درآمد نہیں کرتے ان کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 28 مئی تک ملتوی کر دی۔








