جنگ کے خلاف اور امن کے حق میں بیان دینے پر ہندو انتہا پسندوں کی نامور مسلم صحافی کو دھمکیاں اور فحش پیغامات
عارفہ خانم شیروانی پر حملے کی صورتحال
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی نامور سینئر صحافی عارفہ خانم شیروانی کو جنگ کے خلاف اور امن کے حق میں بیان دینے پر ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے نفرت انگیز مہم، دھمکیوں اور فحش پیغامات کا نشانہ بنایا جانے لگا۔
یہ بھی پڑھیں: جاوید اختر اوڈھو نئے آئی جی سندھ تعینات، نوٹیفکیشن جاری
عارفہ خانم کا پس منظر
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق، عارفہ خانم شیروانی دی وائر کی سینئر ایڈیٹر اور ایوارڈ یافتہ صحافی ہیں، تاہم جنگ کے خلاف اور امن کے حق میں بیان دینے پر ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے انہیں ملک دشمن اور غدار قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف کا کراچی میں پاکستان ایئر فورس ایئر وار کالج انسٹی ٹیوٹ کا دورہ
فیکٹ چیکنگ اور ہراسانی کی تفصیلات
فیکٹ چیکنگ ادارے آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے مطابق، یہ ہراسانی محض اتفاقیہ نہیں ہے، یہ ہندوتوا نائٹ نامی اکاو¿نٹ سے کی جا رہی ہے جو پہلے بھی کئی مسلم صحافیوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ بھارتی پولیس اور حکومت کی جانب سے عارفہ خانم شیروانی کو ملنے والی دھمکیوں پر تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان میں دھماکہ، امن کمیٹی کے سربراہ زخمی
نقدین کی رائے
اس حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت کی ہندو انتہا پسند سرکار کی خاموشی ایسے حملوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں میں خوف و ہراس پھیلتا ہے۔ پاکستان کے کامیاب آپریشن بنیان مرصوص نے بھارتی میڈیا کو ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں نوجوان کرکٹر کی پریکٹس سیشن کے دوران گیند لگنے سے موت
گودی میڈیا کی دھمکیاں
دوسری جانب گودی میڈیا کے نام نہاد ٹی وی اینکر ارناب گوسوامی بھی پاکستانیوں کو دھمکیاں دینے پر اتر آئے، جس پر جیو نیوز کے اینکر اور سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے سوال کیا: "تم صحافی ہو یا دہشت گرد؟ پاکستانیوں کو دھمکی کیسے دے سکتے ہو؟"
بھارتی حکومت کی بوکھلاہٹ
یاد رہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے منہ توڑ جواب کھانے کے بعد بھارتی میڈیا اور حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، اور بھارتی اپوزیشن جماعتوں اور سینئر صحافیوں کی جانب سے مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔








