نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کے وکیل کی التواء کی استدعا مسترد
سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس میں سزائے موت پانے والے مجرم ظاہر جعفر کی اپیل پر سماعت ہوئی۔ تین رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس ہاشم کاکڑ کر رہے تھے۔ سماعت کے دوران ملزم کے وکیل سلمان صفدر نے کیس میں التواء کی استدعا کی، جس پر عدالت نے سخت ردِعمل دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین اب امریکہ کا دشمن نمبر ون نہیں رہا، پینٹاگون نے چین کیلئے خطرے کی سطح کم کردی، اب امریکہ کی پہلی ترجیح کیا ہوگی؟
وکیل کی درخواست اور عدالت کا ردعمل
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق ملزم کے وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اپنایا کہ کیس سے متعلق کچھ اہم دستاویزات جمع کرانی ہیں، جو کیس کا رخ یکسر تبدیل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ظاہر جعفر ذہنی مریض ہے لیکن عدالتوں نے اس نکتے کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: معرکۂ حق میں مودی سرکار کو وہ سبق سکھایا ہے جو وہ کبھی نہیں بھولے گی، بھارت یہ شکست کبھی فراموش نہیں کر سکے گا، وزیرِ اعظم شہباز شریف
جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس
جسٹس ہاشم کاکڑ نے استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ خود عدالت میں موجود ہیں تو التواء کیوں دیں؟ ہماری عدالت میں صرف جج یا وکیل کے انتقال پر کیس ملتوی ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت پورے صوبے میں صفائی ستھرائی جاری ہے، میاں غلام محی الدین
سزا کے اثرات
سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید ریمارکس دیے کہ بیس سال ڈیتھ سیل میں رہنے والے کو اگر بری کیا جائے تو وہ کیا سوچے گا؟ اگر ایسا شخص بری ہونے کے بعد ہمارے سامنے آ جائے تو فائل اٹھا کر ہمارے منہ پر مارے۔ قصور سسٹم کا نہیں، ہمارا ہے، جو غیر ضروری التواء دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: رافیل نہیں بلکہ انڈونیشیاء کس ملک سے طیارے خریدے گا؟ بڑا معاہدہ طے پا گیا
ذہنی مریض ہونے کا نکتہ
جسٹس باقر نجفی نے سوال کیا کہ کیا ذہنی مریض ہونے کا نکتہ ٹرائل کورٹ یا ہائی کورٹ میں اٹھایا گیا تھا؟ جس پر سلمان صفدر نے جواب دیا کہ یہ نکتہ اٹھایا گیا تھا لیکن دونوں عدالتوں نے اسے نظرانداز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آسانی سے معاف نہیں کرتی، والد کو معاف کرنے میں 30 سال لگے: جیا علی
مدعی کے وکیل کی مخالفت
مدعی کے وکیل شاہ خاور نے مجرم کے وکیل کی التواء کی درخواست کی بھرپور مخالفت کی تاہم عدالت نے کہا کہ پہلے درخواست آنے دیں پھر اس پر بحث کریں گے。
سماعت کی اگلی تاریخ
فریقین کے اتفاق رائے سے سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 19 مئی تک ملتوی کر دی اور آئندہ سماعت پر تمام وکلاء کو مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت جاری کی گئی۔








