پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کا ساتھ کیوں دیا؟ بھارتی تاجروں کا ترکیہ کے سیبوں کا بائیکاٹ
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی میں ترکیہ کے پاکستان کا ساتھ دینے پر بھارت سیخ پا ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ نواز کھوکھر نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے کا اعلان کردیا
بھارتی حملہ اور پاکستانی ردعمل
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کرتے ہوئے آزاد کشمیر اور پنجاب میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں بچوں سمیت 31 پاکستانی شہید اور 51 زخمی ہوئے۔ بھارت کے حملے کے بعد پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جس میں رافیل، مگ 29، ایک ایس یو تھرٹی اور ایک کومبیٹ ڈرون کو مار گرایا۔
یہ بھی پڑھیں: Unity Festival Organized by the Saudi Pakistani Professionals Community with Exciting Workshops
پاکستان کا مؤثر جواب
اس کے بعد پاکستان نے 10 مئی کی علی الصبح بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کامیاب آپریشن ب±نیان مَّرص±وص (آہنی دیوار) کیا۔
یہ بھی پڑھیں: تائیوان میں زلزلے کے شدید جھٹکے
ترکیہ کی حمایت اور بھارتی ردعمل
پاک بھارت کشیدگی میں ترکیہ نے پاکستان کا ساتھ دیا، جو بھارتیوں کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ اس کے بعد انہوں نے ترکیہ کے سیب کے بائیکاٹ کی مہم چلا دی۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک اور پیرس میں پی آئی اے کے ہوٹل نجکاری کا حصہ نہیں، مشیر نجکاری
سیب کے بائیکاٹ کی مہم
بھارتی میڈیا کے مطابق، پونے کے تاجر یہ مہم تیزی سے چلا رہے ہیں اور تاجروں کی جانب سے ترکیہ کے سیب کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مقامی تاجروں نے ترک سیبوں کا بائیکاٹ کیا ہے، جس کے سبب سیب شہر کے بازاروں سے تقریباً غائب ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ بائیکاٹ کا پونے کی فروٹ منڈی پر کافی اثر پڑے گا۔ ترکیہ کے سیب عام طور پر ایک ہزار سے 1200 کروڑ روپے کے موسمی کاروبار میں حصہ ڈالتے ہیں۔
سیب کی طلب میں کمی
میڈیا رپورٹس کے مطابق، سیب کے ایک تاجر نے حالیہ دنوں میں ترک سیب کی مانگ میں تیزی سے کمی کی تصدیق کی اور بتایا کہ ہم نے ترکیہ سے سیب کی خریداری بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے بجائے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، ایران اور دیگر خطوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔








