مودی پاکستان سے نفرت کرتا ہے وہ انتقام لے گا، قوم نے متحد اور الرٹ رہنا ہے:عمران خان
عمران خان کا بیان
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) - پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مودی پاکستان سے نفرت کرتا ہے اور وہ انتقام لے گا۔ قوم کو متحد اور الرٹ رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ جنگ میں لوگوں کا حوصلہ اور سپورٹ بہت اہم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: فیصل ٹاؤن میں خواجہ سرا بے رحمی سے قتل، ڈی آئی جی کا نوٹس
علیمہ خان کی گفتگو
سابق وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آج ہم تینوں بہنوں نے عمران خان سے ملاقات کی۔ ہم نے انہیں بتایا کہ وکلاءباہر کھڑے ہیں اور انہیں تین کو نہیں جانے دیا گیا۔ ہم نے یہ بھی ذکر کیا کہ بھارت کے ساتھ جنگ میں پاکستانی قوم کا جوش اور جذبہ بہت نڈر تھا، اور ملک کے دفاع میں سب پاکستانی متحد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کی سابق خاتون اول جل بائیڈن نے نئی ذمہ داری سنبھال لی
جنگ میں فوری ریسپانس کی اہمیت
عمران خان نے کہا کہ جنگ میں فوری ریسپانس بہت اہم ہوتا ہے۔ یہ 60 فیصد دماغ کی گیم ہے۔ حملے کا جواب فوج خود نہیں دیتی، بلکہ کمانڈر انچیف، صدر اور وزیراعظم کے حکم پر ایکشن لیتے ہیں۔ مودی پاکستان سے بہت نفرت کرتا ہے اور اس وقت وہ شدید غصے میں ہے، انتقام لینے کے لیے اسے قوم کا اتحاد اور الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کی جنگ میں پاکستان کامیاب رہا ہے، لیکن مودی یہ برداشت نہیں کرے گا اور معاشی اٹیک کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلا آرٹیفیشل انٹیلی جنس روڈ میپ منظور، 2029 تک پنجاب کو جنوبی ایشیا کا لیڈنگ اے آئی صوبہ بنانے کا ہدف
26 ویں ترمیم پر تنقید
سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ 26 ویں ترمیم نے ملک سے رول آف لاءختم کردیا ہے۔ جو بھی اس ترمیم کے حق میں ووٹ ڈال رہے تھے، وہ دراصل آرڈر مان رہے تھے۔ اس ترمیم سے ججز کو سرکاری ڈیپارٹمنٹ بنا دیا گیا ہے اور انہیں فیصلہ کرنے کی آزادی چھین لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سٹیو سمتھ نے آخری گیند پر سنگل نہ لے کر بابر اعظم کو ناراض کرنے کی وجہ بتا دی۔
عوامی انصاف کی فراہمی
عمران خان نے کہا کہ ہم نے عوام کو تنہا نہیں چھوڑنا ہے اور انہیں انصاف دینا ہے۔ 9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی بات کیوں نہیں ہوتی؟ یہ واضح کرے گی کہ سزائیں کیوں دی گئیں۔ ایسے میں ملٹری کا کام لوگوں کی حفاظت کرنا ہے، اور ہمارے آئین میں انسانیت کی سب سے بڑی اہمیت ہے۔
علیمہ خان کی خواہشات
علیمہ خان نے کہا کہ جب بات چیت ہوگی تو مودی کے سامنے کون بولے گا؟ اس لیے ہم نے عمران خان سے کہا کہ وہ مودی کے خلاف بیان دیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عمران خان کا فوکس تنظیم سازی اور تحریک پر ہونا چاہئے۔








