پاک بھارت جنگ کے روز مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کہاں تھے؟
واقعہ پہلگام اور بھارتی حملے
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) کے مطابق، مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پہلگام میں واقعہ پیش آیا، جس کے بعد بھارت نے پاکستان کے مختلف شہروں پر میزائل داغ دیے، جس کے نتیجے میں کئی شہری شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: مائنس ون فارمولا نہیں چل سکتا، بیرسٹر گوہر
ڈرون حملے اور قومی سلامتی کی میٹنگ
اگلے روز، انڈیا نے لاہور، اوکاڑہ، راولپنڈی اور دیگر شہروں پر ڈرون حملے کیے۔ اس دوران نواز شریف، وزیر اعظم کی طرف سے بلائی جانے والی قومی سلامتی کی میٹنگ میں شرکت کے لئے وزیر اعظم ہاو¿س میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن، معروف اداکارہ ہانڈے ارچل سمیت شوبز، اسپورٹس اور کاروباری حلقوں سے تعلق رکھنے والی متعدد اہم شخصیات کو حراست میں لے لیا گیا
نواز شریف کی پوزیشن اور حکمت عملی
نجی سوشل میڈیا ویب سائٹ وی نیوز کے مطابق، لیگی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نواز شریف اس جنگی صورتحال میں بالکل بھی پریشان نہیں تھے۔ جب نور ایئر بیس پر حملہ ہوا تو وہ وزیر اعظم ہاو¿س کے اندر موجود تھے اور انہوں نے اسلام آباد میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری سالک حسین نے ای او بی آئی پیشنرز کو بڑی خوشخبری سنادی
پاکستان کا جواب اور نواز شریف کا کردار
لیگی ذرائع نے معلومات فراہم کیں کہ 10 مئی کو فجر کے وقت جب پاکستان نے بھارت پر حملہ کیا، نواز شریف وزیر اعظم ہاو¿س میں نماز پڑھ رہے تھے۔ انہیں فجر کی نماز سے پہلے آگاہ کیا گیا تھا کہ پاکستان بھارت پر حملہ کر رہا ہے، جس پر انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو عملدرآمد کی ہدایت دی۔
یہ بھی پڑھیں: کوچ نے بابراعظم کو بڑی خوشخبری سنا دی
وزیر اعظم ہاؤس میں رہنے کی حکمت عملی
نواز شریف نے 10 اور 11 مئی کو وزیر اعظم ہاو¿س میں رہ کر تمام معاملات کو خود دیکھتے رہے۔ لیگی ذرائع کے مطابق، شہباز شریف نے اس جنگی صورتحال میں جو بھی فیصلے کئے، وہ سب نواز شریف کے مشورے پر کئے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی بات پرانی میٹنگ کی ہے، ابھی ایسی کوئی ہدایت نہیں آئی: نثار جٹ
نواز شریف کی قیادت کا اثر
نواز شریف نے کہا تھا کہ ہمیں بھارت کو بھر پور جواب دینا ہوگا، اور اس جنگی صورتحال میں ان کی فوج کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں بھی جاری رہیں۔ انہوں نے اس دوران اپنے حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ بھارت پاکستان کا یہ حملہ برداشت نہیں کر پائے گا۔
سفارتی محاذ پر سرگرمیاں
وزیر اعظم ہاو¿س میں رہتے ہوئے، میاں نواز شریف نے سفارتی محاذ پر بھی سرگرمیاں جاری رکھیں اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ہدایت دیتے رہے کہ انہیں اس صورت حال میں کن ممالک سے رابطے کرنا چاہیے۔








