آج آخری بار ہمارے کندھوں کی ضرورت تھی، وہ گاؤں جہاں بچپن گزارا، گھنے درخت کی چھاؤں میں ابدی نیند سویا ہے، یادوں کی برات پیچھے چھوڑ گیا
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 166
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف شہروں میں 5 روز سے انٹرنیٹ سروس متاثر
تعویز خاتون کا کیس
اس تربیت کے چند سال بعد حفیظ الرحمن کے پاس کوئی خاتون لیکچرار تعویز لینے آئی۔ ایک تعویز وہ اس سے لے گئی اور ایک اسے دے گئی۔ وہ اس لیکچرار کے عشق میں ایسا باندھا کہ پہلے بچوں کے ہوتے ہوئے اُس سے دوسری شادی کی اور اپنے ہی کشتوں کے پشتے لگانے کے چکر میں اپنے گردوں کو زخمی کروا بیٹھا اور لوگوں کو راحت دینے والا دوستوں کے دل پر زخم لگا کر منوں مٹی تلے جا کر راحت سے سو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کو معطل کر دیا گیا
وزیر بلدیات پنجاب کے سٹاف افسر کا تجربہ
آج جب یہ باتیں لکھ رہا ہوں تو مجھے اس کی ایک اور بات بھی یاد آ گئی۔ میں جب وزیر بلدیات پنجاب کا سٹاف افسر تھا تو مجھے اس نے فون کرکے کہا؛ “میری ٹرانسفر ٹی ایم او (تحصیل میونسپل افسر) چشتیاں کروا دو۔ مہربانی ہو گی۔“ اگلے 2 روز میں اس کی ٹرانسفر چشتیاں ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے فائنل میں بدلہ لینا ہے اور انہیں چھوڑنا نہیں ہے، کرکٹ فین کا حارث روف سے مطالبہ
قوم و ملت کے لیے محبت
تو میں نے اسے فون پر کہا؛ “مولوی! تیری ٹرانسفر ہو گئی ہے اب میں تیرے پاس آ رہا ہوں۔ سیدھے تیرے حجرے میں آؤں گا اور لوگوں سے کہوں گا یہ جعلی پیر ہے۔” اس نے زور دار قہقہہ لگا یا اور بولا؛ “یار! سن نا جانے تجھ میں ایسی کیا بات ہے کہ تو کچھ بھی کہہ دیتا ہے تو مجھے برا نہیں لگتا۔”
یہ بھی پڑھیں: سرکاری حکام نے غیر رجسٹرڈ وی پی این کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا
دوستوں کی یادیں
مشتاق بھی اسی علاقے کا ہی رہنے والا تھا۔ صحت مند پہلوان اور گہرے سانولے رنگ کا وہ گورا انسان تھا۔ اس کا دل اس کا ساتھ چھوڑ گیا تھا اور وہ ہمارا۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس نے خاتون کا نوٹوں سے بھرا ہوا چوری شدہ بیگ تلاش کرلیا،ملزمہ گرفتار
شوکت سعید کی یادیں
ہاں شوکت سعید بھی کبھی نہیں بھولا۔ وہ بڑا ہنس مکھ، یار بادشاہ اور درویش منش انسان تھا۔ کھاریاں کے قریبی گاؤں "پنجن کسانہ" کا رہنے والا تھا۔ اس نے تربیت کے بعد نوکری کا کافی حصہ غیر ملکی اداروں "جیکا (JICA)، وولڈ بنک اور نیشنل کمیشن برائے ہیومن ڈویلپمنٹ" کے ساتھ گزارا۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین عمران خان ہیں، بیرسٹر گوہر کو صرف پیغام رسانی کیلئے تعینات کیا ہے: علیمہ خان
آخری لمحے کا دکھ
2007ء کی اس ملاقات کے چند ماہ بعد ہی وہ شدید سرد موسم میں باہر سے گھر آیا اور گیس ہیٹر جلانے کے لئے جیسے ہی دیا سلائی جلائی کہ کمرے میں زور دار دھماکہ ہوا۔ اگلے روز وہ 2 بیٹوں، 2 بیٹیوں، بیوی اور ڈھیروں دوستوں کو چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے پرعزم ہیں: وزیراعظم
اَبدی نیند اور یادیں
وہ اپنے گاؤں جہاں اس نے بچپن گزارا تھا اونچے گھنے درخت کی چھاؤں میں ابدی نیند سویا ہے۔ یادوں کی برات پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ وہ چھوٹے سے گاؤں میں جنم لینے والا ہر لحاظ سے بڑا آدمی تھا۔(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








