لاہور ہائیکورٹ کا غیر ضروری اپیل دائر کرنے پر درخواست گزار کو 10 لاکھ روپے جرمانہ
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے غیر ضروری اپیل دائر کرنے پر درخواست گزار کو 10 لاکھ روپے جرمانہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: فورسز کی کارروائیوں میں بھارتی سرپرستی یافتہ 18 دہشتگرد ہلاک
دو رکنی بنچ کی کارروائی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔ درخواست گزار نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت ایکسائز ڈیپارٹمنٹ سے ٹیکس پیئرز کی تفصیلات لینے کے لیے رجوع کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ ٹیرف پر پریشان ضرور مگر جوابی اقدام کا ارادہ نہیں: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
انفارمیشن کمیشن کا حکم
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انفارمیشن کمیشن نے ایکسائز کو متعلقہ معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا، ایکسائز کی جانب سے ٹیکس پیئرز کی ذاتی انفارمیشن کے علاوہ باقی معلومات فراہم کر دی گئیں۔ درخواست گزار نے ٹیکس پیئرز کی معلومات لینے کی بھی استدعا کی۔
یہ بھی پڑھیں: کتنے مظاہرین گرفتار ہوئے، افغان شہری کتنے تھے، کتنی گاڑیاں پکڑیں گئیں؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
ایکسائز کا انکار
فیصلے میں یہ کہا گیا ہے کہ ایکسائز نے متعلقہ ٹیکس پیئرز کی ذاتی انفارمیشن دینے سے انکار کر دیا، ایکسائز کی جانب سے انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے ایکسائز کی درخواست منظور کر لی اور انفارمیشن کمیشن کے احکامات کالعدم قرار دے دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آئینی بنچ نے اعلیٰ عدلیہ ججز کی پارلیمنٹ میں تقریروں کیخلاف درخواست خارج کردی
درخواست گزار کی کارروائی
عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے سنگل بنچ کا فیصلہ انٹرا کورٹ اپیل کے ذریعے چیلنج کیا، رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت کوئی بھی شہری معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
جرمانے کی تفصیلات
بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے غیر ضروری اپیل دائر کرنے پر درخواست گزار کو 10 لاکھ روپے جرمانہ کر دیا اور 2 رکنی بنچ نے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔








