یادیں دکھ کے آنسو آنکھوں میں اتار دیتی ہیں، دن تو کسی نہ کسی طرح گزر ہی جاتا ہے، یہ رات کیوں آتی ہے جو تاروں بھری نہیں یادوں بھری ہوتی ہے۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 167
اللہ ان کی قبروں کو منور کرے آمین۔
یہ بھی پڑھیں: 6 بار ایسویسییشنز کے صدور و جنرل سیکرٹریز کی وزیر قانون پنجاب اور خالد رانجھا سے ملاقات
یادیں اور احساسات
دنیا میں ایسی یادیں کیوں ساتھ رہتی ہیں جو دکھ کے آنسو ہر بار آنکھوں میں اتار دیتی ہیں۔ دن تو کسی نہ کسی طرح گزر ہی جاتا ہے۔ یہ رات کیوں آتی ہے جو تاروں بھری نہیں۔۔۔ یادوں بھری ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شکیب الحسن کا جان بوجھ کر غیر قانونی ایکشن سے بولنگ کروانے کا انکشاف
فیلڈ اٹائچمنٹ کا آغاز
فیلڈ اٹائچمنٹ قلعہ دیدار سنگھ؛
میں فیلڈ اٹائچمنٹ کے لئے بھائی جان بوبی کے گھر آیا جہاں سے بذریعہ ویگن قلعہ دیدار سنگھ کا فاصلہ گھنٹے بھر کا تھا۔ پہلے دن ٹوٹی سڑک سے فورڈ ویگن میں سفر کرکے یہاں پہنچا۔ یہ ویگن آتے جاتے سواریوں سے خوب بھری ہوتی اور گھر واپس پہنچنے تک کپڑے پسینہ کی خوشبو سے تر ہو چکے ہوتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: زیارت میں سیاحتی مقام سے اسسٹنٹ کمشنر اور بیٹے کا اغوا
اقبال صاحب سے ملاقات
اقبال صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہیں اپنے آنے کا مقصد بتایا، ان کے پاس پہلے سے ہی اطلاع تھی۔ انہوں نے چائے سے تواضح کی اور مجھے اپنے دفتر کی ورکنگ سے آگاہ کیا۔ کیش بک پڑھنا، لکھنا بتایا جو غلام محمد مجھے پہلے ہی بتا چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: خدا نے ہارنے کے لیے نہیں سیکھنے، سنبھلنے اور چمکنے کے لیے پیدا کیا ہے، جیتنے کی نیت زندہ رکھو، جذبے کے ساتھ آگے بڑھو اور اپنی تقدیر خود رقم کرو
یونین کونسل کا دورہ
مجھے قریبی یونین کونسل کے دفتر لے جایا گیا جہاں جاوید اقبال سیکرٹری تھا (جاوید بعد میں 39 میں گوجرانوالہ میں میرا ماتحت بھی رہا۔) اس نے بڑے اچھے انداز میں یونین کونسل کے فرائض اور ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ جاوید سمجھدار اور محنتی ماتحت تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹی ٹوینٹی 7 اوورز تک محدود
واپسی کا سفر
شام کو جب میں واپس گوجرانوالہ جانے لگا تو اقبال صاحب کہنے لگے؛ "اگر آپ چاہیں تو کل سے آنے کی زحمت نہ کریں۔ ہفتہ بھر کی اٹachment کا سرٹیفیکیٹ آپ کو مل جائے گا۔ آپ آنے جانے کی تکلیف سے بچ جائیں گے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔" میری لئے یہ ایک اور حیرت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بم کی اطلاع، بھارت میں مسافر طیارے کی لکھنؤ میں ہنگامی لینڈنگ
تعلیم کا مقصد
میں شکریہ کے ساتھ انہیں بتایا؛ "جناب! میرے لئے یہ کوئی مناسب بات نہیں ہوگی۔ میں روز ہی آؤں گا۔ اگر آپ مصروف ہیں تو مجھے اپنے کسی سیانے ماتحت کے حوالے کر دیں جو مجھے لوکل گورنمنٹ کی ورکنگ اور اپنے تجربات سے آگاہ کر سکے اور میں یہاں سے کچھ سیکھ کر جانا چاہتا ہوں۔" میرا جواب انہیں زیادہ اچھا نہ لگا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کو 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 224 اراکین کی حمایت درکار
مزید سیکھنے کا عمل
بدل نخواستہ انہوں نے اپنے دفتر کے پراجیکٹ اسسٹنٹ رب نواز اور جاوید سیکرٹری کو باقی دنوں کے لئے میرے ساتھ کر دیا۔ نواز بھی جاوید کی طرح پرانا سمجھ دار اور سیانا ورکر تھا۔ غلام محمد کے بعد اسے میں اپنا دوسرا استاد مانتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ نے دو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو برطرف کردیا
محکمہ جات کا دورہ
اگلے 5 روز میں نے محکمہ تعلیم، ایک ہائی سکول، مرکز صحت، دو یونین کونسلز اور اے سی کے دفتر کا وزٹ کیا لیکن میرا فوکس اپنے دفاتر کی ورکنگ ہی تھی۔ ہفتہ بھر کی یہ اٹachment اختتام کو پہنچی۔ آخر روز اقبال صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کا، جاوید اور نواز کا شکریہ ادا کیا۔ واپس گوجرانوالہ چلا گیا۔ پانچ صفحوں کی رپورٹ لکھی اور لالہ موسیٰ پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کیخلاف پہلے ون ڈے کیلئے پاکستان نے پلئینگ الیون کا اعلان کردیا
تربیت کا آخری ہفتہ
6 ہفتے کی تربیت کا آخری ہفتہ آن پہنچا تھا۔ آخری ہفتہ کا ایک دن ڈائریکٹر آفس گوجرانوالہ وزٹ کے لئے مقرر تھا۔ 2 روز رپورٹس پیش کرنے اور سوال و جواب کے لئے تھے۔ ایک روز تربیت کی فیڈ بیک کے لئے مقرر تھا، ایک روز امتحان کے لئے اور آخری روز سرٹیفیکیٹ کی تقسیم اور گھروں کی واپسی کے لئے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








