پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادت نے عالمی دباﺅ میں سیز فائر قبول کیا: سابق پاکستانی جنرل
سابق چیف آف جنرل سٹاف کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد سعید کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادت نے عالمی دباﺅ میں سیز فائر قبول کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق آئی سی سی میچ ریفری کرس براڈ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی بھارت نوازی کا پول کھول دیا
سیز فائر کا فیصلہ
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق غیر ملکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد سعید کا کہنا تھاکہ سیز فائر ایک جرات مندانہ فیصلہ تھا، یہ آسان فیصلہ نہیں تھا، دونوں جانب کی سیاسی قیادت نے عالمی دباﺅ میں سیز فائر قبول کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نان فائلرز کو بینک سے 50 ہزار سے زائد کیش نکلوانے پر کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟ بڑا فیصلہ
فوجی تصادم کی تفصیلات
ان کا کہنا تھاکہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر لیکن وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا فوجی تصادم تھا، 3 ہزار کلومیٹر کی حدود میں میزائل اور گولہ باری ہوئی، گلگت بلتستان سمیت ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے درمیان براہ راست مذاکرات کے حامی ہیں: امریکا
امن کی عدم پائیداری
سابق چیف آف جنرل سٹاف کا کہنا تھا کہ سیز فائر کے 24 سے 36 گھنٹوں میں دونوں افواج نے موثر جنگ بندی نافذ کی، 78 سال میں کئی سیز فائر ہوئے لیکن مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے سے پائیدار امن نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت نے کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی منظوری دے دی
اقوام متحدہ کی مداخلت
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے 1948 میں کشمیر کو بین الاقوامی تنازع تسلیم کیا، جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتا سیز فائر ناپائیدار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا جوابی وار، امریکہ کے لیے انتہائی اہم معدنیات کی برآمد پر پابندی لگا دی
بھارت کے دعوے کا جواب
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد سعید کا کہنا تھا کہ بھارت نے غلط دعویٰ کیا کہ اس نے دہشت گرد کیمپس کو نشانہ بنایا، بھارت نے اصل میں مساجد اور عام شہریوں کے گھر تباہ کئے، بھارت کی بمباری سے معصوم بچوں کے ساتھ خواتین بھی شہید ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: تم اور کتنی گہرائی میں جاؤ گے: سارہ شریف قتل کیس کا وہ ڈرامائی لمحہ جو مقدمے کی سمت بدل گیا۔
پاکستان کا موقف
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پہلگام واقعے کی مذمت کی اور ثبوت کی صورت میں تعاون کا کہا، بھارت نے ابھی تک ثبوت نہ پاکستان کو، نہ کسی بین الاقوامی ادارے کو دیے، تفتیش جاری ہے تو بین الاقوامی قانون کہاں اجازت دیتا ہے بغیر نتیجہ حملے کر دیں؟
بھارت کی تحقیقات کا سوال
سابق لیفٹیننٹ جنرل کا کہنا تھاکہ بھارت نے پٹھان کوٹ، اڑی، ممبئی حملوں پر بھی بہانے کئے، شفاف تحقیقات نہ کیں، بھارت غلط کہتا ہے کہ دہشت گرد اڈے نشانہ بنائے، غیر ملکی چینلز کے رپورٹر خود زمینی صورتحال کا مشاہدہ کریں۔








