پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادت نے عالمی دباﺅ میں سیز فائر قبول کیا: سابق پاکستانی جنرل
سابق چیف آف جنرل سٹاف کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد سعید کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادت نے عالمی دباﺅ میں سیز فائر قبول کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بڑی خوشخبری، برطانیہ نے پاکستانی ایئر لائنز پر عمران خان دور حکومت میں وزیر ہوابازی کے پائلٹوں سے متعلق بیان کے بعد عائد کی گئی پابندیاں ختم کر دیں۔
سیز فائر کا فیصلہ
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق غیر ملکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد سعید کا کہنا تھاکہ سیز فائر ایک جرات مندانہ فیصلہ تھا، یہ آسان فیصلہ نہیں تھا، دونوں جانب کی سیاسی قیادت نے عالمی دباﺅ میں سیز فائر قبول کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں داخل ہونے والا مسلح شخص گرفتار
فوجی تصادم کی تفصیلات
ان کا کہنا تھاکہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر لیکن وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا فوجی تصادم تھا، 3 ہزار کلومیٹر کی حدود میں میزائل اور گولہ باری ہوئی، گلگت بلتستان سمیت ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: شکارپور میں باراتیوں کی بس پر فائرنگ، دلہا سمیت 3 افراد جاں بحق
امن کی عدم پائیداری
سابق چیف آف جنرل سٹاف کا کہنا تھا کہ سیز فائر کے 24 سے 36 گھنٹوں میں دونوں افواج نے موثر جنگ بندی نافذ کی، 78 سال میں کئی سیز فائر ہوئے لیکن مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے سے پائیدار امن نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کابینہ کی تشکیل پر مشاورت جاری ہے، عمران خان سے مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا، اسد قیصر
اقوام متحدہ کی مداخلت
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے 1948 میں کشمیر کو بین الاقوامی تنازع تسلیم کیا، جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتا سیز فائر ناپائیدار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں ایک مرتبہ پھر توسیع کردی گئی
بھارت کے دعوے کا جواب
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد سعید کا کہنا تھا کہ بھارت نے غلط دعویٰ کیا کہ اس نے دہشت گرد کیمپس کو نشانہ بنایا، بھارت نے اصل میں مساجد اور عام شہریوں کے گھر تباہ کئے، بھارت کی بمباری سے معصوم بچوں کے ساتھ خواتین بھی شہید ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے صوبہ خوزستان میں 23 مشتبہ اسرائیلی جاسوسوں پر فردِ جرم عائد
پاکستان کا موقف
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پہلگام واقعے کی مذمت کی اور ثبوت کی صورت میں تعاون کا کہا، بھارت نے ابھی تک ثبوت نہ پاکستان کو، نہ کسی بین الاقوامی ادارے کو دیے، تفتیش جاری ہے تو بین الاقوامی قانون کہاں اجازت دیتا ہے بغیر نتیجہ حملے کر دیں؟
بھارت کی تحقیقات کا سوال
سابق لیفٹیننٹ جنرل کا کہنا تھاکہ بھارت نے پٹھان کوٹ، اڑی، ممبئی حملوں پر بھی بہانے کئے، شفاف تحقیقات نہ کیں، بھارت غلط کہتا ہے کہ دہشت گرد اڈے نشانہ بنائے، غیر ملکی چینلز کے رپورٹر خود زمینی صورتحال کا مشاہدہ کریں۔








