وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آذربائیجان میں رابطہ، علاقائی امن پر تبادلہ خیال
وزیراعظم کی آذربائیجان کے صدر سے بات چیت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف میں رابطہ ہوا ہے جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن، مسئلہ کشمیر اور حالیہ علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت نے کم سے کم تنخواہ کا نوٹیفکیشن جاری کردیا
آذربائیجان کی حمایت پر شکرگزاری
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم نے جنوبی ایشیا کے حالیہ بحران میں پاکستان کے ساتھ آذربائیجان کی مضبوط یکجہتی اور حمایت پر صدر الہام علیوف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ صدر علیوف کی مستقل حمایت پاکستانی عوام سے ان کی بے پناہ محبت اور پیار کا ایک اور مظہر ہے، انہوں نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی پر آذربائیجان کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: CAMON 30S: فوٹو گرافی کے غیر معمولی تجربے کیلئے Sony AI کیمرہ کا حامل
دوستی کا پیغام
انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان پائیدار اور دیرینہ دوستی کا اظہار ہوا ہے جو ہمیشہ سچے بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ مکمل، اسلام آباد روانہ
علاقائی امن کی اہمیت
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے علاقائی امن کیلئے بھارت کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے تاہم بھارتی قیادت کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات پر تشویش ہے۔
شہباز شریف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں کسی بھی جارحیت کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بھرپور دفاع کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سیمنٹ کی بوری مہنگی ہو گئی
آذربائیجان کی کامیابیوں کا اعتراف
دوسری جانب صدر الہام علیوف نے پاکستان کی حالیہ شاندار کامیابی پر وزیراعظم کو مبارکباد دی اور امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، انہوں نے کہا کہ آذربائیجان پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
مسئلہ کشمیر پر مستقل حمایت
وزیراعظم شہباز شریف نے مسئلہ کشمیر پر آذربائیجان کی مسلسل حمایت پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات وقت کی آزمائش پر پورے اترے ہیں، انہوں نے پاکستان میں آذربائیجان کی 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور صدر الہام علیوف کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔








