ہمارے باغی افغانستان میں حکومتی سرپرستی میں رہ رہے ہیں: سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان کا بیان
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ہمارے باغی افغانستان میں حکومتی سرپرستی میں رہ رہے ہیں، گڈ اور بیڈ عسکریت پسندوں کا فرق ختم ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف صاحب آپ سب جانتے ہوئے بھی غلط کر رہے ہیں، محمود اچکزئی
علیحدگی پسند تحریکیں
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو علیحدگی پسند تحریکیوں کو برداشت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس جنگ میں بلوچستان کو دھکیلا گیا ہے، وہ لاحاصل ہے۔ میرے خیال میں، اس ملک کو تشدد کے ذریعے توڑا نہیں جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف یہ آپریشن اب اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک۔۔‘‘ پاکستان نے واضح اعلان کر دیا
تاریخی تشکیک
انہوں نے مزید کہا کہ آئین پاکستان کے مطابق بلوچستان کو حقوق مل رہے ہیں، جبکہ ہمیں توڑنے کے لیے مائنڈسیٹ پر کام کیا جا رہا ہے۔ ایسی تاریخ بتائی جا رہی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ کو ہم نے اپنی مرضی سے مسخ کیا ہے، اور دانشور طبقے پر کام ہو رہا ہے تاکہ ملک کو توڑا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے پاس انٹرسیپٹرز کی کمی ہوگئی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
بغاوت اور امن
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بیانیے کے سچ اور حق ہونے کا فیصلہ عوام نے خود کرنا ہے۔ ہمارے باغی افغانستان میں حکومتی سرپرستی میں رہ رہے ہیں، جہاں گڈ اور بیڈ عسکریت پسندوں کا فرق ختم ہو رہا ہے۔ جو بھی بندوق اٹھا رہا ہے، وہ پہلے دن سے ہی پاکستان کو توڑنے کی بات کر رہا ہے، جس کی وجہ سے بلوچ قوم کو نقصان ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کی وہ سوسائٹی جس کے اندر سے رنگ روڈ گزرے گا، ویڈیو
بلوچ علیحدگی پسند تحریک
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ علیحدگی پسند تحریک کا انجام بھی کرد تحریک کی طرح ہوگا۔ علیحدگی پسندی کے لیے ترقی نہ ہونے کی دلیل غلط ہے کیونکہ یہ قومی اور حقوق کی جنگ نہیں ہے۔ آخر کب تک ہم اپنے نوجوانوں کو اس آگ اور خون کے دریا میں دھکیلیں گے؟ اس لاحاصل جنگ پر دانشوروں کو بات کرنی چاہئے۔
قانون کی حکمرانی
سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ ہم قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، کیونکہ قانون کی حکمرانی سے عوام کے مسائل کا حل ممکن ہے۔ امن و امان برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ کیا ہمارا کلچر یہ اجازت دیتا ہے کہ کسی مزدور کو قتل کر دیا جائے؟








