مس پاکستان ورلڈ اریج چودھری کے مقابلہ حسن میں انتخاب کے طریقہ کار سے متعلق حیران کن انکشافات
حیران کن انکشافات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مس پاکستان ورلڈ اریج چودھری نے مقابلہ حسن میں انتخاب کے طریقہ کار سے متعلق حیران کن انکشافات کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صحت کے نظام میں انقلاب
تنقید کا سامنا
انڈیپینڈنٹ اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خود پر ہونے والی تنقید کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے کہا کہ کسی کی زبان کو روکا نہیں جا سکتا۔ ہر ایک کی اپنی رائے ہوتی ہے اور میں تنقید کو اصلاح کے طور پر لیتی ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف نے رکن قومی اسمبلی میاں اظہر کے انتقال کے باعث لاہور کی خالی ہونے والی نشست این اے 129 پر ان کے بیٹے حماد اظہر کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرلیا
مقابلہ حسن کا انتخاب
اریج چودھری نے بتایا کہ مقابلہ حسن میں کسی لڑکی کا انتخاب صرف ظاہری خوبصورتی کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ کئی ٹاسک بھی دیئے جاتے ہیں جنھیں مکمل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بلکہ مقابلہ حسن میں انتخاب 80 فیصد فلاحی کام کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ امیدوار اپنے ملک میں کتنا فلاحی کام کرتے ہیں۔
فلاحی کام اور اس کی اہمیت
اریج چودھری نے بتایا کہ مقابلے میں حصہ لینے والوں کو فلاحی کاموں کے لیے وقت بھی دیا جاتا ہے۔ جو جتنا بہتر ٹاسک پورا کرتا ہے اتنے زیادہ نمبر ملتے ہیں۔ اریج چودھری نے مس پاکستان ورلڈ کا ٹائٹل جیتنے پر کہا کہ مجھے آج بھی اس کامیابی پر فخر ہے، اس کے لیے سخت محنت کی تھی۔








