جنگ میں ناکامی کے بعد بھارت کو سفارتکاری کا خیال آہی گیا، 7 ٹیمیں تشکیل
بھارت کی جنگی ناکامیاں
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) یکطرفہ جنگی کارروائی میں ناکامی اور 6 جنگی جہاز تباہ کروانے کے بعد بھارت کو سفارتکاری کا خیال بھی آ ہی گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں گلبرگ پولیس نے شہری کے 5 لاکھ روپے محض 30 منٹس میں برآمد کر لیے
سفارتی ٹیموں کا قیام
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق بھارت نے تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل 7 سفارتی ٹیمیں تشکیل دے دیں جو سلامتی کونسل کے رکن ممالک سمیت اہم شراکت دار ممالک کا دورہ کریں گی اور آپریشن سندور سے متعلق آگاہی دیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جارحیت کے خلاف پوری قوم متحد اور پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے، مولانا فضل الرحمان
مقصد اور حکمت عملی
کمیٹیاں حکومتوں، تھنک ٹینکس اور میڈیا سے بات چیت کر کے اپنی حکومت کا نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کریں گی۔ پارلیمانی ٹیموں کے دورے اس ماہ کے آخر میں متوقع ہیں۔ بھارت نے 70 ممالک کے ڈیفنس اتاشیوں کو آپریشن سندور کے دوران ہدف بنائے گئے افراد اور مقامات کے دہشت گردی سے تعلقات پر بریفنگ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 14 اڈوں پر حملے کیے اور بڑی تعداد میں امریکی فوجی ہلاک کردیئے، ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ
بریفنگ کی تفصیلات
ذرائع کا کہنا ہے کہ بریفنگ میں سیٹلائٹ تصاویر، ریکارڈ کی گئی گفتگو، انٹیلی جنس رپورٹس اور ٹیکنیکل ڈیٹا کی مدد سے لشکر طیبہ اور دی رزسٹنس فرنٹ کے پہلگام واقعے سے تعلق جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری، کس نے کیا کھویا کیا پایا؟
پہلگام واقعہ
یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پہلے پاکستان پر لگایا جسے پاکستان نے یکسر مسترد کر دیا۔ بعد میں بھارت نے کہا کہ حملے میں دی رزسٹنس فرنٹ ملوث ہے لیکن اس تنظیم نے بھی اس واقعے سے بے تعلق ہونے کا دعویٰ کیا۔
پاکستان کا مطالبہ
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو پیش کریں، ہم غیر جانبدارانہ تحقیقات میں تعاون کریں گے۔ تاہم بھارت امریکہ اور برطانیہ سمیت کسی بھی فورم پر ایک بھی ثبوت پیش نہ کر سکا۔








