وفاقی بجٹ ساڑھے 17 ہزار سے 18 ہزار ارب روپے تک رہنے کا تخمینہ
اسلام آباد بجٹ کی تخمینہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ ساڑھے 17 ہزار ارب روپے سے 18 ہزار ارب روپے تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں انتخابات شفاف نہیں ہوتے تو ایوارڈ شوز کی ووٹنگ پر کیسے بھروسہ کرسکتے ہیں؟، سیمی راحیل
محاصل اور ٹیکس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے ذرائع کے مطابق ایف بی آر آئندہ مالی سال کے دوران 14 ہزار 307 ارب روپے کے محاصل جمع کرے گا، جس میں 6 ہزار 470 ارب روپے ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں جمع کئے جائیں گے۔
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 11 سو 53 ارب روپے اور سیلز ٹیکس کا ہدف 4943 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1 ہزار 741 ارب روپے، جبکہ پٹرولیم لیوی کا ہدف 13 سو 11 ارب روپے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، گھر میں بھاری مالیت کا سونا چوری ہونے کا ڈراپ سین، بڑی بھابھی ہی ماسٹر مائنڈ نکلی
نان ٹیکس آمدن اور قرضوں کی ادائیگی
دستاویز کے مطابق نان ٹیکس آمدن 25 سو 84 ارب روپے ہوگی، اور صوبے 12 سو 20 ارب کا سرپلس دیں گے۔ آئندہ سال قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کے لیے 8 ہزار 685 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: دریا کے اندر غیر قانونی تعمیرات کے نقصانات کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا :چیف سیکرٹری پنجاب
دفاع اور ترقیاتی منصوبے
آئندہ مالی سال کے دوران دفاع پر 2 ہزار 414 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے جبکہ ترقیاتی منصوبوں پر وفاق 1065 ارب روپے خرچ کرے گا۔
قرضوں کا تخمینہ
واضح رہے کہ آئندہ مالی سال میں 6 ہزار 588 ارب روپے کا قرض حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔








