17.6 ٹریلین روپے کے بجٹ کی منظوری، آئی ایم ایف نے 11 نئی شرائط لگا دیں
آئی ایم ایف کی نئی شرائط
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئی ایم ایف نے پاکستان پر 11 نئی شرائط عائد کی ہیں جن میں 17.6 ٹریلین روپے مالیت کے نئے بجٹ کی منظوری، بجلی کے بلوں پر ڈیٹ سروسنگ سرچارج میں اضافہ اور تین سال سے زائد پرانی استعمال شدہ کاروں کی درآمد پر پابندیاں اٹھانا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ریاست یوٹاہ میں چرچ کے باہر فائرنگ، 2 افراد ہلاک، 3 کی حالت تشویشناک
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے جاری سٹاف لیول رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اگر برقرار رہتی ہے یا مزید بگڑتی ہے تو اس سے پروگرام کے مالی، بیرونی اور اصلاحاتی اہداف کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 75 سالہ شخص 35 سالہ خاتون سے شادی کی اگلی صبح ہی انتقال کرگیا
مارکیٹ کا ردعمل
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لیکن اب تک مارکیٹ کا ردعمل معمولی رہا ہے۔ سٹاک مارکیٹ نے اپنے حالیہ فوائد کو برقرار رکھا ہے اور اس کے حصص میں تیزی آئی۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید پر چارج شیٹ فوج کا اندرونی معاملہ ہے، پی ٹی آئی کا رد عمل
بجٹ کی تفصیلات
آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کا دفاعی بجٹ 2.414 ٹریلین روپے ظاہر کیا ہے جو 252 ارب روپے یا 12 فیصد زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف کے تخمینے کے مقابلے میں حکومت نے بھارت کی جانب سے جارحیت کے بعد 2.5 ٹریلین روپے یا 18 فیصد زائد بجٹ مختص کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جھوٹ پہ جھوٹ۔۔۔ بھارتی گودی میڈیا اور بھارتی سپانسرڈ فتنہ الخوارج کی سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف مہم پھر بے نقاب ہو گئی
قرضے کی شرائط
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے صرف 7 ارب ڈالر کے قرضے کی خاطر پاکستان پر مزید 11 شرائط عائد کی ہیں جس سے ادارے کی اب کل شرائط 50 ہوگئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 2019ء میں پاکستان کی جوابی کارروائی میں طیارے گرائے جانے پر بھارت کا میزائل حملے پر غور لیکن دراصل یہ جرات کیوں نہ کرسکا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی
تعمیراتی بجٹ
جون 2025 کے آخر تک پروگرام کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے معاہدے کے مطابق 2026 کا بجٹ "آئی ایم ایف نے وفاقی بجٹ کا کل حجم 17.6 ٹریلین روپے" ظاہر کیا ہے جس میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 1.07 ٹریلین روپے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی
صوبائی ٹیکس قوانین
بجٹ میں صوبوں پر بھی ایک نئی شرط عائد کی گئی ہے، صوبے جامع منصوبے کے ذریعے نئے زرعی انکم ٹیکس قوانین کو لاگو کریں گے جس میں ریٹرن کی کارروائی، ٹیکس دہندگان کی شناخت اور رجسٹریشن کے لیے ایک آپریشنل پلیٹ فارم کا قیام بھی شامل ہے۔ صوبوں کو اس کے لیے جون کے آخر تک کا وقت دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پرانی کتابوں کی دکان۔۔۔
گورننس ایکشن پلان
تیسری نئی شرط کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کی "معائنہ رپورٹ" کی سفارشات پر مبنی گورننس ایکشن پلان شائع کرے گی۔ رپورٹ کا مقصد گورننس کی اہم کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے عوامی سطح پر اصلاحاتی اقدامات کی نشاندہی کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان، ژالہ باری کی بھی پیشگوئی
کیش ٹرانسفر پروگرام
چوتھی نئی شرط میں کہا گیا ہے کہ حکومت لوگوں کی حقیقی قوت خرید کو برقرار رکھنے کے لیے غیر مشروط کیش ٹرانسفر پروگرام کی سالانہ افراط زر کی ایڈجسٹمنٹ دے گی۔
یہ بھی پڑھیں: محبوبہ کی شادی طے ، ہوٹل کے کمرے میں آخری ملاقات کے دوران لڑکے نے ایسا کام کردیا کہ روح کانپ اٹھے
مالیاتی حکمت عملی
ایک اور نئی شرط میں کہا گیا ہے کہ حکومت 2027 کے بعد کی مالیاتی شعبے کی حکمت عملی کا خاکہ تیار کرتے ہوئے ایک منصوبہ تیار کرے گی اور 2028 کے بعد سے ادارہ جاتی اور ریگولیٹری ماحول کا خاکہ پیش کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: جناح ہاؤس حملہ کیس، تحریک انصاف کی رہنما کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
توانائی کے شعبے میں تبدیلیاں
توانائی کے شعبے میں چار نئی شرائط متعارف کرائی گئی ہیں۔ حکومت توانائی کے نرخوں کو لاگت کی وصولی کی سطح پر برقرار رکھنے کے لیے اس سال یکم جولائی تک سالانہ بجلی کے ٹیرف کی ری بیسنگ، 15 فروری 2026 تک توانائی کے نرخوں کو لاگت کی وصولی کی سطح پر برقرار رکھنے کے لیے سالانہ گیس ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اپنا کماؤ ……اپنا کھاؤ“ وزیراعلیٰ مریم نواز نے تاریخ رقم کر دی، پنجاب میں 90 روز میں 57913 نئے کاروبار شروع ہونے کا ریکارڈ بن گیا
قانون سازی کی ضرورت
پارلیمنٹ اس ماہ کے آخر تک کیپٹو پاور لیوی آرڈیننس کو مستقل کرنے کے لیے قانون سازی کرے گی۔ حکومت نے صنعتوں کو نیشنل گرڈ میں منتقل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے لاگت میں اضافہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: رواں سال کے 100دنوں میں موٹرسائیکل اور کار چوری کی 4300 سے زائد وارداتیں
توانائی کی پالیسیاں
پاکستان میں توانائی سے متعلق غلط پالیسیاں حکومت کی خراب حکمرانی کے علاوہ گردشی قرضے کے جمع ہونے کا سبب بن رہی ہیں۔ آئی ایم ایف نے ملک کو مختلف نئے قوانین کی پاسداری کے لیے ہدایت دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ آج رات بھی جاری رہنے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات کی پیش گوئی
کامیابی کے معیار
پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے دسمبر 2024 کے آخر تک 7 شرائط کے ساتھ کارکردگی کے معیار کو پورا کیا ہے، جس میں مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں بہتری، نئے فائلرز سے ٹیکس ریٹرنز میں اضافہ شامل ہیں۔ بیشتر اہداف دسمبر کے آخر تک مکمل کر لیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے نئی رینکنگ جاری کردی ، بابر اعظم کی ٹیسٹ اور ون ڈے میں رینکنگ مزید بہتر
وفاقی حکومت کی ذمہ داریاں
آئی ایم ایف کے مطابق حکومت کی صحت اور تعلیم کے اخراجات کے حوالے سے شرائط، ایف بی آر کی طرف سے جمع کردہ خالص ٹیکس منافع اور تاجر دوست سکیم کے تحت ریٹیلرز سے جمع ہونے والے خالص ٹیکس ریونیو کو ضائع کردیا گیا۔
صوبائی حکومتوں کی کارکردگی
رپورٹ کے مطابق متعلقہ صوبائی حکومتیں معاہدے کی منظوری کے لیے طے کئے گئے قانون سازی کے ڈھانچے بھی پوری اتریں۔ کم سرمایہ والے بینکوں کے مسائل اور دیگر کئی معاملات کو حل کرنے کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔








