پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ پر پالیسی مذاکرات کل شروع، 23 مئی تک جاری رہیں گے
تکنیکی مذاکرات کی تکمیل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی مذاکرات گزشتہ ہفتے مکمل ہو گئے۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق ذرائع ایف بی آر کا بتانا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے بجٹ پر پالیسی سطح کے مذاکرات کل شروع ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آخری دم تک ایمانداری اور جذبۂ حب الوطنی سے سرشار پنجاب اسمبلی کے پہلے سپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا کے اعزاز میں تقریب ہوئی
پالیسی مذاکرات کی مدت
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی مذاکرات 23 مئی تک جاری رہیں گے۔ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لیے پاکستان کی مجموعی آمدن 20 کھرب روپے تک لے جانے کا کہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی رواں سال موجودہ آمدن تقریباً 17.8 کھرب روپے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرتار پورگوردوارہ میں نکاسیٔ آب چند گھنٹوں میں مکمل، جنم استھان کے تمام حصے مکمل طورپر صاف، وسیع صحن سے پانی نکال دیاگیا
اخراجات میں کمی کی ضرورت
آئی ایم ایف غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کے لیے سخت کنٹرول چاہتا ہے۔ اگلے مالی سال پاکستان کو تقریباً 19 ارب ڈالر قرض واپس کرنے ہیں، اور آئی ایم ایف ان قرضوں کی پائیدار ادائیگی پر زور دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 11 ہزار 700 روپے اضافہ
ٹیکس کے معاملات
پاکستان تعمیراتی صنعتوں کے لیے خام مال پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنا چاہتا ہے۔ بجٹ میں پراپرٹی کے لین دین پر بھی ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی جائے گی۔ اگلے مالی سال کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے پر بات ہوگی۔
آئی ایم ایف کے سامنے تجاویز
پاکستان سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی آئی ایم ایف کے پاس لے کر جا رہا ہے۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد تک بڑھانے کی یقین دہانی کرائی جائے گی۔ پاکستان تنخواہ دار طبقے کو ریلیف کے لیے مختلف تجاویز بھی آئی ایم ایف کے سامنے رکھے گا。








