جے 10 سی عالمی برآمدی منڈی میں ایف 16 کے مقابلے کیلئے تیار ہے، امریکی جریدہ
چین کی جدید جنگی طیاروں کی کامیابی
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ چین کئی شعبوں میں مغرب کو پیچھے چھوڑ رہا ہے، خاص طور پر ہتھیاروں کی صنعت میں۔ جے 10 سی اب عالمی برآمدی منڈی میں ایف 16 کے مقابلے کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرپول نے الزامات ثابت نہ ہونے پر برٹش پاکستانی بزنس مین جبران خان کے خلاف تحقیقات ختم کر دیں
چین کا دفاعی ہتھیاروں کے میدان میں ترقی
امریکی جریدے ’نیشنل انٹرسٹ‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق، چین نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ امریکی دفاعی حریف ہے۔ حالیہ 4 روزہ پاک بھارت تنازع میں، چینی ہتھیاروں اور جنگی طیاروں نے مغربی عسکری منصوبہ سازوں کی توقعات سے کہیں بہتر کارکردگی دکھائی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی آرٹلری گن پوزیشن دہرنگیاری اور براہموس سٹوریج سائٹ نگروٹا کو بھی تباہ کر دیا گیا
پی ایل15 ایئر ٹو ایئر میزائل کی طاقت
خاص طور پر، پی ایل15 ایئر ٹو ایئر میزائل سے لیس چینی جے 10 سی جنگی طیارے نے بھارت کی پاکستان میں ابتدائی پیش قدمی کو مکمل طور پر روک دیا۔ چین اب جے 10 سی کو امریکی ساختہ ایف 16 کا حقیقی حریف بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر ہاؤس سندھ میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے لیے ہزاروں کا عوامی اجتماع لوگ کیا کہتے ہیں؟ آپ بھی دیکھیے
افریقہ میں ہتھیاروں کی برآمدات پر اثرات
حالیہ جنگ میں چینی طیارے کی کارکردگی نے بیجنگ کو عالمی ہتھیاروں کی برآمدی منڈی میں ایف 16 کی بالادست حیثیت کو چیلنج کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اگر چین اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے امریکا کے دفاعی شعبے کو بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فریال محمود کی مختصر لباس میں بولڈ ڈانس کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی
چین کی صنعتی صلاحیتوں کا فروغ
چین پہلے ہی بڑے پیمانے پر سستی پیداوار کی مہارت رکھتا ہے اور اب اعلیٰ معیار کے ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کی طرف ماہرین برسوں سے توجہ دلاتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدراتی ایوارڈ یافتہ شہنائی نواز استاد عبداللہ انتقال کرگئے
جے 10 جنگی طیارے کی تفصیلات
چین کا جے 10 چینگڈو ’ویگرس ڈریگن‘ ایک کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ہے جسے چینگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری گروپ نے تیار کیا۔ جے 10 سی کی تیاری کا منصوبہ 1980 کی دہائی میں شروع ہوا، جس کا مقصد یہ تھا کہ چین امریکی اور سوویت یونین کے چوتھی نسل کے لڑاکا طیاروں کا مقابلہ کرسکے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم نے آسان خدمت سینٹر کا افتتاح کردیا
چین کی خود انحصاری کی جانب پیش قدمی
چین نے اپنے مقامی انجنوں کی تیاری میں مہارت حاصل کی ہے، تاکہ وہ دفاعی خود انحصاری کی جانب مزید پیش قدمی کر سکے۔ جے 10 سی کے جدید ماڈلز میں چھپنے کی صلاحیت شامل کی گئی ہے، جس سے اس کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بینظیر بھٹو شہید کی برسی پر پاکستان پیپلزپارٹی کی تعزیتی تقریب
مہنگائی کی حیثیت میں فرق
عام طور پر، جے 10 کے برآمدی ماڈل کی قیمت تقریباً 40 سے 65 ملین ڈالر کے درمیان ہوتی ہے، جبکہ امریکی ایف 16 کی قیمت 60 سے 85 ملین ڈالر ہے۔
نتیجہ
چین کئی شعبوں میں مغرب کو پیچھے چھوڑ رہا ہے، خاص طور پر ہتھیاروں کی صنعت میں۔ جے 10 سی اب عالمی برآمدی منڈی میں ایف 16 کے مقابلے کے لیے تیار ہے۔








