پاکستان کو کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت 41 کروڑ ڈالر ملیں گے، آئی ایم ایف
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات آج سے شروع ہورہے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی خطرات سے متاثرہ ٹاپ 15 ممالک میں شامل ہے، پاکستان کو آئندہ مالی سال کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت 41 کروڑ ڈالر ملیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت پر نظر رکھنے کے لیے پہلا لانگ رینج ریڈار ایجاد کر لیا، بڑی خوشخبری
ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے اہداف
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات آج سے دوبارہ شروع ہو رہے ہیں، عالمی مالیاتی ادارے نے ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے اہداف مقرر کردیئے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ رخ خان نے ایک فلم کیلئے 300 کروڑ معاوضہ مانگ لیا، سب سے مہنگے اداکار بن گئے
کلائمیٹ فنانسنگ کی رقم اور اہداف
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی خطرات سے متاثرہ ٹاپ 15 ممالک میں شامل ہے، پاکستان کو آئندہ مالی سال کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت 41 کروڑ ڈالر ملیں گے، 1.4 ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت اہداف مقرر کر دیئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ سکسز: پاکستان نے سیمی فائنل میں ناقابل شکست رہتے ہوئے، بھارت کو متحدہ عرب امارات کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست دی۔
قومی اہداف میں الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ
عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا قومی اہداف میں شامل ہے، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی ترقی کو محدود کیا جائے گا، پاکستان کو 2030ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 15 فیصد کمی لانا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں مون سون سپیل، لاہور سمیت کئی شہروں میں موسلادھار بارش
حکومت کی اقدامات
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھا جائے گا جبکہ آئی ایم ایف نے گرین بجٹ ٹیگنگ اور ڈیزاسٹر رسک بجٹنگ پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت داخلہ کا 20 نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ
پاکستان کی ماحولیاتی صلاحیت
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بہت کمزور ہے، ایسے بیرونی جھٹکے ناقابل برداشت مالی اخراجات کا سبب بنتے ہیں، یہ شاکس عوامی منصوبوں اور معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔
ماحولیاتی کمزوریوں کا تجزیہ
عالمی مالیاتی ادارے نے مزید کہا کہ پاکستان کی ماحولیاتی کمزوریاں بہت زیادہ ہیں، ماحولیاتی تبدیلی ناصرف مالیاتی بلکہ ترقیاتی سطح پر بھی سنگین خطرات پیدا کررہی ہے، پاکستان نے کثیر الجہتی و دوطرفہ ترقیاتی شراکت داروں کی مدد سے پیشرفت کی ہے۔








