بجلی، گیس اور پیٹرول مزید مہنگا ہونے کا امکان، شہریوں کے لیے پریشان کن خبر آ گئی
اسلام آباد میں مالی بوجھ کی اطلاعات
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کو بڑی یقین دہانیاں کرائی ہیں۔ اس ضمن میں پیٹرولیم مصنوعات میں مزید لیوی، بجلی کے بلوں میں ڈیبٹ سروس سرچارج لگانے اور گیس کی قیمت میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو اضافی مالی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا؟
نئے مالی سال کا پلان
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے آغاز پر بجلی، گیس، اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس پلان کے تحت یکم جولائی 2025 سے بجلی ٹیرف کی سالانہ ری بیسنگ کی جائے گی، اور گیس ٹیرف میں بھی ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ حکومت نے اس حوالے سے آئی ایم ایف کو بڑی یقین دہانیاں مہیا کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پوپ فرانسس کی موت کی وجہ سامنے آگئی
عوامی مالی بوجھ کی توقعات
ذرائع نے بتایا کہ نئے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں عوام کو اضافی مالی بوجھ اٹھانے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور صوبے بجلی اور گیس پر کوئی سبسڈی فراہم نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: 200 روپے مالیت کے پرائز بانڈ رکھنے والوں کیلیے خوشخبری
گردشی قرضوں کی ادائیگی
ذرائع کے مطابق گردشی قرض کی ادائیگی کے لیے بینکوں سے 1252 ارب روپے قرض لیا جائے گا، اور یہ رقم اگلے 6 سال میں بجلی صارفین سے وصول کی جائے گی۔ بجلی کے بلوں میں 10 فیصد ڈیبٹ سروس سرچارج شامل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یہ ٹیکنیکل تفصیلات ہیں: لڑاکا طیاروں کے سوال پر بھارتی ڈی جی ملٹری آپریشنز پھر کنفیوژن میں پھنس گئے
بجٹ میں تبدیلیاں
ذرائع نے بتایا کہ حکومت کو ڈیبٹ سروس چارج میں اضافے کا اختیار ہوگا اور نئے بجٹ میں بجلی سبسڈی میں کمی کی جائے گی، کیونکہ گردشی قرضے کو 2031 تک صفر پر لانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستوں پر حلف برداری کا اقدام پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج
نیپرا کے اقدامات
ذرائع کے مطابق نیپرا سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا اجرا جاری رکھے گا۔ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کا بروقت اطلاق یقینی بنایا جائے گا، اور بیس ٹیرف اور ریونیو میں پایا جانے والا خلا ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عام انتخابات میں تحریک انصاف کو کم از کم دو تہائی اکثریت ملی، امیر جماعت اسلامی
سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان
ذرائع کا کہنا تھا کہ سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان جولائی میں کابینہ سے منظور ہوگا۔ پہلی ششماہی میں توانائی سیکٹر کو 450 ارب کا فائدہ ہوا، جبکہ بجلی گردشی قرضہ جنوری 2025 تک 2444 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
اصلاحات اور مذاکرات
ذرائع کے مطابق گردشی قرضوں پر قابو پانے کے لیے اصلاحات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئی پی پیز سے مذاکرات کے ذریعے جون تک 348 ارب کی ادائیگی ہوگی، اور کاسٹ ریکوری بہتر بنا کر توانائی کی قیمت کم کی جائے گی۔








