ایک بار طے ہو جانا چاہیے کہ نظرثانی کون سا بنچ سنے گا، وکیل فیصل صدیقی کا جسٹس امین الدین سے مکالمہ
سماعت کا آغاز
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آئینی بنچ میں پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کیخلاف نظرثانی کیس میں جسٹس امین الدین نے فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ مزید کتنا وقت لیں گے۔ سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے واضح کیا کہ وہ اعتراضات پر تفصیل سے دلائل دیں گے اور کہا کہ کوئی فرق نہیں پڑے گا اگر وہ ایک سماعت اور لے لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے والوں کی باری آ گئی
عدالت کی اہمیت
جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ اعتراضات پر اتنے لمبے دلائل دے رہے ہیں، تو فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ میرے لیے یہ کیس ضروری نہیں اور میرا موکل بھی ضروری نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے عدالت کے نظرثانی دائرہ سماعت کی اہمیت کا احساس ہے، اور یہ ضروری ہے کہ طے ہو جائے کہ نظرثانی کون سا بنچ سنے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں حکومت کے حوالے سے 2 بڑی جماعتوں میں کیا کوئی ’’معاہدہ‘‘ ہوا تھا۔؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔
کیس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، سپریم کورٹ آئینی بنچ میں پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کیخلاف نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں گیارہ رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی، اور سنی اتحاد کونسل نے کیس میں تین متفرق درخواستیں دائر کی ہیں۔ انہوں نے بنچ پر اعتراض اٹھایا ہے اور جسٹس منصور علی شاہ کو بنچ میں شامل کرنے کی استدعا کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کابینہ کمیٹی پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 میں یکم نومبر تک توسیع کی منظوری دے دی
وکیل کی دلائل
وکیل سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ نظرثانی ہمیشہ مرکزی کیس سننے والا بنچ سنتا ہے۔ اب جبکہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد، چھوٹا بنچ بھی نظرثانی کیس سن سکتا ہے، انہوں نے اپنے آئینی و قانونی اعتراضات کا ذکر کیا۔ جسٹس امین الدین نے یہ وضاحت کی کہ دونوں ججز نے خود بنچ سے علیحدگی اختیار کی۔
یہ بھی پڑھیں: پر اسرار بیماری سے 143 افراد ہلاک، ڈبلیو ایچ او بھی میدان میں آگیا
عدالت کے سوالات
جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا کہ کیا اب دونوں ججز بیٹھ کر کیا کریں گے، جبکہ دونوں اپنا فیصلہ دے چکے ہیں۔ بعد ازاں، جسٹس امین الدین نے فیصل صدیقی سے کہا کہ آپ مزید کتنا وقت لیں گے، جس پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے اپنی بات جاری رکھی۔
سماعت کا اختتام
عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی، جبکہ فیصل صدیقی نے یہ بات دہرائی کہ میرے لیے یہ کیس اور میرے موکل کے لیے بھی اہم نہیں، لیکن ضروری ہے کہ عدالت کے نظرثانی دائرہ سماعت کی وضاحت ہو۔








