ایم کیو ایم نے وفاقی وزرا کے سامنے تحفظات رکھ دیئے، ملاقات کی اندرونی کہانی جانئے
کراچی میں ایم کیو ایم اور وفاقی وزرا کی ملاقات
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایم کیو ایم اور وفاقی وزرا کے درمیان گورنر ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف میں ڈسپلن نہیں، ہر 100 بندے کا ایک لیڈر ہے، محمود خان اچکزئی
ایم کیو ایم کے تحفظات
نجی ٹی وی جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایم کیو ایم نے کیپٹو پاور پلانٹ کے ٹیرف بڑھانے اور اسے صنعتوں سے الگ کرنے کی تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایم کیو ایم رہنماوں نے وفاقی وزرا سے فیصلوں پر اعتماد میں نہ لینے پر بھی ناراضی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آفر آئی ہے کہ احتجاج ملتوی کردیں سب ٹھیک ہوجائے گا، عمران خان
وفد کی گفتگو
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم وفد نے کہا کہ حکومت اہم فیصلوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیپٹو پاور پلانٹ کو ختم یا الگ کرنے سے صنعتی پیداوار، روزگار اور برآمدات میں کمی آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: آگلے دن بیگم کو گاؤں سے لیا، ٹرین میں بیٹھے، نئی نئی شادی کے خمار آلود جھونکوں کی چھاؤں میں یہ سفر یوں کٹا جیسے حسین خواب ہو، اندھیرا قدم جما رہا تھا
وفاقی وزرا کا جواب
وفاقی وزرا نے کہا کہ کیپٹو پاور پلانٹ سے متعلق فیصلہ 2021 کی کابینہ میں ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے بھارت کے پاکستان پر حملے کو افسوسناک قرار دے دیا
آئی ایم ایف کی تجویز
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم وفد نے کہا کہ آئی ایم ایف نے زرعی آمدنی پر بھی ٹیکس لگانے کا کہا ہے، جبکہ حکومت نے اس معاملے کو صوبوں کے حوالے کرکے جان چھڑائی۔ وفد نے یہ بھی کہا کہ صوبے کبھی بھی جاگیرداروں اور وڈیروں پر ٹیکس نہیں لگائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایکس میں مثبت رجحان، 100 انڈیکس ایک لاکھ 90 ہزار سے تجاوز کرگیا
بجٹ کی توقعات
ایم کیو ایم نے امید ظاہر کی کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے گا اور زرعی آمدنی کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔ کراچی کے مسائل اور تاجروں کے تحفظات بھی زیر غور ہیں، کیونکہ ایم کیو ایم کو کراچی کے تاجروں اور عوام کو جواب دینا ہے۔
وفاقی حکومت کی مشاورت
ذرائع نے متحدہ رہنماوں کے حوالے سے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ وفاقی حکومت بجٹ سے قبل مشاورت کر رہی ہے۔ بجٹ میں کراچی حیدرآباد پیکیج کی رقم میں اضافہ کیا جائے، جبکہ سرکلر ریلوے، کے فور اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے وفاقی حکومت خصوصی توجہ دے۔








