ایم کیو ایم نے وفاقی وزرا کے سامنے تحفظات رکھ دیئے، ملاقات کی اندرونی کہانی جانئے
کراچی میں ایم کیو ایم اور وفاقی وزرا کی ملاقات
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایم کیو ایم اور وفاقی وزرا کے درمیان گورنر ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکارہ کا کرکٹر سوریا کمار یادیو سے متعلق حیران کن انکشاف
ایم کیو ایم کے تحفظات
نجی ٹی وی جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایم کیو ایم نے کیپٹو پاور پلانٹ کے ٹیرف بڑھانے اور اسے صنعتوں سے الگ کرنے کی تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایم کیو ایم رہنماوں نے وفاقی وزرا سے فیصلوں پر اعتماد میں نہ لینے پر بھی ناراضی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 2023 میں ہونے والے یونان کشتی حادثے کا مرکزی ملزم گرفتار
وفد کی گفتگو
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم وفد نے کہا کہ حکومت اہم فیصلوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیپٹو پاور پلانٹ کو ختم یا الگ کرنے سے صنعتی پیداوار، روزگار اور برآمدات میں کمی آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے حملے، رونالڈو نے ریاض چھوڑ دیا، نجی طیارے میں کہاں روانہ ہو گئے؟ جانیے
وفاقی وزرا کا جواب
وفاقی وزرا نے کہا کہ کیپٹو پاور پلانٹ سے متعلق فیصلہ 2021 کی کابینہ میں ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر بجٹ: ہیلتھ کارڈ سہولت بحال، تعلیم کیلئے 2 ارب 40 کروڑ روپے مختص
آئی ایم ایف کی تجویز
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم وفد نے کہا کہ آئی ایم ایف نے زرعی آمدنی پر بھی ٹیکس لگانے کا کہا ہے، جبکہ حکومت نے اس معاملے کو صوبوں کے حوالے کرکے جان چھڑائی۔ وفد نے یہ بھی کہا کہ صوبے کبھی بھی جاگیرداروں اور وڈیروں پر ٹیکس نہیں لگائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جدہ کرکٹ کلب کے کھلاڑیوں کے لیے نئے ٹریک سوٹس کی تقریب رونمائی، عقیل آرائیں کا خصوصی اعلان
بجٹ کی توقعات
ایم کیو ایم نے امید ظاہر کی کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے گا اور زرعی آمدنی کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔ کراچی کے مسائل اور تاجروں کے تحفظات بھی زیر غور ہیں، کیونکہ ایم کیو ایم کو کراچی کے تاجروں اور عوام کو جواب دینا ہے۔
وفاقی حکومت کی مشاورت
ذرائع نے متحدہ رہنماوں کے حوالے سے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ وفاقی حکومت بجٹ سے قبل مشاورت کر رہی ہے۔ بجٹ میں کراچی حیدرآباد پیکیج کی رقم میں اضافہ کیا جائے، جبکہ سرکلر ریلوے، کے فور اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے وفاقی حکومت خصوصی توجہ دے۔








