انڈیا میں ہائیکورٹس ججز کی سنیارٹی لسٹ ایک ہی ہے؛ سپریم کورٹ نے ججز تبادلہ کیس میں سنجیدہ سوالات اٹھا دیے
ججز تبادلہ کیس کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ججز تبادلہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز تبادلے کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھاد یئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اب 20 سال سے پرانی گاڑیاں موٹروے پر نہیں چلیں گی، ہمیں جانوں کی حفاظت کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے: عبدالعلیم خان
ہائیکورٹس کے ججز کا یونیفائیڈ کیڈر
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ انڈیا میں ہائیکورٹس ججز کا یونیفائیڈ کیڈر ہے۔ پاکستان میں ہائیکورٹس ججز کی سنیارٹی کا یونیفائیڈ کیڈر نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رقم لے کر واپس نہ کرنے کا الزام، عدالت نے اداکارہ نازش کو طلب کر لیا
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے ججز تبادلہ کیس کی سماعت کی، جس میں وکیل حامد خان نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹس سے ججز کے ٹرانسفر پر بہت سارے نکات پر غور ہونا چاہیے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کے تبادلے میں غیر معمولی جلد بازی دکھائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: برج خلیفہ میں پاکستان بمقابلہ بھارت کا شاندار مقابلہ: ویمنز ٹیمیں کل دبئی میں اتریں گی!
ججز کی رضامندی کی ضرورت
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ انڈیا میں ججز کے ٹرانسفر میں جج کی رضا مندی نہیں لی جاتی بلکہ وہاں ججز ٹرانسفر میں چیف جسٹس کی مشاورت ہے۔ ہمارے ہاں جج ٹرانسفر پر رضامندی آئینی تقاضا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے کارکنان کی ہلاکت کی ویڈیوز ڈیلیٹ کردی گئیں
سنیارٹی کی اہمیت
جسٹس شکیل احمد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ انڈیا میں ہائیکورٹس ججز کی سنیارٹی لسٹ ایک ہی ہے۔ وکیل حامد خان نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ ججز ٹرانسفر کے عمل میں چیف جسٹس آف پاکستان نے بامعنی مشاورت ہی نہیں کی، جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ججز ٹرانسفر کے عمل میں مشاورت نہیں بلکہ رضا مندی لینے کی بات کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لداخ سیکٹر میں بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی ختم
ججز کو منتقل کرنے کا مقصد
وکیل حامد خان نے کہا کہ اصل مقصد جسٹس سرفراز ڈوگر کو لانا تھا۔ باقی 2 ججز کا ٹرانسفر تو محض دکھاوے کے لیے کیا گیا۔ آرٹیکل 200 کا استعمال اختیارات کے غلط استعمال کے لیے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم ٹاؤن موڑپر پتنگ کی ڈور پھرنے سے موٹر سائیکل سوار زخمی، وزیر اعلیٰ پنجاب کا اظہار برہمی ، رپورٹ طلب کر لی
نوٹیفکیشن کا ذکر
بانی پی ٹی آئی کے وکیل ادریس اشرف نے اس موقع پر کہا کہ ججز ٹرانسفر کی میعاد کا نوٹیفکیشن میں ذکر نہیں ہے۔ ججز کو ٹرانسفر کر کے پہلے سے موجود ہائیکورٹ میں ججز کے مابین تفریق پیدا نہیں کی جا سکتی۔ ججز کے مابین الگ الگ برتاؤ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: جیل کاٹنے کے اگر 10 نمبر ہوں تو میں عمران خان کو 10 میں سے 10 نمبرز دوں گا: رانا ثناء اللہ
آرٹیکل 25 کی اہمیت
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ججز ٹرانسفر کے عمل میں آرٹیکل 25 کو سامنے رکھا جائے؟۔ اگر ججز کا ٹرانسفر دو سال کے لیے ہوتا تو کیا آپ اس پر مطمئن ہوتے؟۔ اصل سوال سینیارٹی کا ہے۔
کیس کی مزید سماعت
بعد ازاں کیس کی سماعت کل ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی گئی، جس میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔








