انڈیا میں ہائیکورٹس ججز کی سنیارٹی لسٹ ایک ہی ہے؛ سپریم کورٹ نے ججز تبادلہ کیس میں سنجیدہ سوالات اٹھا دیے

ججز تبادلہ کیس کی سماعت

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ججز تبادلہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز تبادلے کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھاد یئے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی اور یو این ایف پی اے کا اجلاس، درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو

ہائیکورٹس کے ججز کا یونیفائیڈ کیڈر

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ انڈیا میں ہائیکورٹس ججز کا یونیفائیڈ کیڈر ہے۔ پاکستان میں ہائیکورٹس ججز کی سنیارٹی کا یونیفائیڈ کیڈر نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لیسکوکا پولیس اور رینجر کے ساتھ مل کر آپریشن، لاہور کے معروف ہوٹل میں بجلی چوری پکڑی گئی، تفصیلات جان کر آپ حیران رہ جائیں

سماعت کا پس منظر

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے ججز تبادلہ کیس کی سماعت کی، جس میں وکیل حامد خان نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹس سے ججز کے ٹرانسفر پر بہت سارے نکات پر غور ہونا چاہیے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کے تبادلے میں غیر معمولی جلد بازی دکھائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: کھچی صاحب کی ایک بات میرے دادا کے بھائی جیسی تھی: اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک تین چار لوگ دستر خوان پر نہ ہوں، کوئی نہ ہو تو فون کرکے بلا لیتے۔

ججز کی رضامندی کی ضرورت

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ انڈیا میں ججز کے ٹرانسفر میں جج کی رضا مندی نہیں لی جاتی بلکہ وہاں ججز ٹرانسفر میں چیف جسٹس کی مشاورت ہے۔ ہمارے ہاں جج ٹرانسفر پر رضامندی آئینی تقاضا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یقین کریں یہ بڑے افسردہ اور دل دکھا دینے والے جنازے تھے ہر آنکھ آشک بار ہر دل اداس،اپنے نہ ہوتے ہو ئے بھی وہ اپنے تھے، دھرتی کے سپوت

سنیارٹی کی اہمیت

جسٹس شکیل احمد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ انڈیا میں ہائیکورٹس ججز کی سنیارٹی لسٹ ایک ہی ہے۔ وکیل حامد خان نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ ججز ٹرانسفر کے عمل میں چیف جسٹس آف پاکستان نے بامعنی مشاورت ہی نہیں کی، جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ججز ٹرانسفر کے عمل میں مشاورت نہیں بلکہ رضا مندی لینے کی بات کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی ایک چھوٹا پاکستان ہے جو بڑے پاکستان کو پالتا ہے، خالد مقبول صدیقی

ججز کو منتقل کرنے کا مقصد

وکیل حامد خان نے کہا کہ اصل مقصد جسٹس سرفراز ڈوگر کو لانا تھا۔ باقی 2 ججز کا ٹرانسفر تو محض دکھاوے کے لیے کیا گیا۔ آرٹیکل 200 کا استعمال اختیارات کے غلط استعمال کے لیے کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں قلندرز اور وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے ٹیلنٹ ہنٹ ٹرائلز مکمل، لڑکوں اور لڑکیوں کی 15، 15 رکنی ٹیموں کا اعلان

نوٹیفکیشن کا ذکر

بانی پی ٹی آئی کے وکیل ادریس اشرف نے اس موقع پر کہا کہ ججز ٹرانسفر کی میعاد کا نوٹیفکیشن میں ذکر نہیں ہے۔ ججز کو ٹرانسفر کر کے پہلے سے موجود ہائیکورٹ میں ججز کے مابین تفریق پیدا نہیں کی جا سکتی۔ ججز کے مابین الگ الگ برتاؤ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف میں عالیہ حمزہ کا مستقبل اچھا نظر نہیں آ رہا: تجزیہ کار سلمان غنی

آرٹیکل 25 کی اہمیت

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ججز ٹرانسفر کے عمل میں آرٹیکل 25 کو سامنے رکھا جائے؟۔ اگر ججز کا ٹرانسفر دو سال کے لیے ہوتا تو کیا آپ اس پر مطمئن ہوتے؟۔ اصل سوال سینیارٹی کا ہے۔

کیس کی مزید سماعت

بعد ازاں کیس کی سماعت کل ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی گئی، جس میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...