انڈیا میں ہائیکورٹس ججز کی سنیارٹی لسٹ ایک ہی ہے؛ سپریم کورٹ نے ججز تبادلہ کیس میں سنجیدہ سوالات اٹھا دیے
ججز تبادلہ کیس کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ججز تبادلہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز تبادلے کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھاد یئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب، 6 وزارتوں کے 371 ملازمین کے خلاف کرپشن کی تحقیقات
ہائیکورٹس کے ججز کا یونیفائیڈ کیڈر
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ انڈیا میں ہائیکورٹس ججز کا یونیفائیڈ کیڈر ہے۔ پاکستان میں ہائیکورٹس ججز کی سنیارٹی کا یونیفائیڈ کیڈر نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف پاکستان کو قرض کی فراہمی پر نظرثانی کرے، بھارت کا آئی ایم ایف سے مطالبہ
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے ججز تبادلہ کیس کی سماعت کی، جس میں وکیل حامد خان نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹس سے ججز کے ٹرانسفر پر بہت سارے نکات پر غور ہونا چاہیے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کے تبادلے میں غیر معمولی جلد بازی دکھائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: صدرِ مملکت کے خلاف نازیبا پوسٹ کرنے پر نوجوان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج
ججز کی رضامندی کی ضرورت
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ انڈیا میں ججز کے ٹرانسفر میں جج کی رضا مندی نہیں لی جاتی بلکہ وہاں ججز ٹرانسفر میں چیف جسٹس کی مشاورت ہے۔ ہمارے ہاں جج ٹرانسفر پر رضامندی آئینی تقاضا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمیشن اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ڈیجیٹل میڈیا کے تعاون سے اعلیٰ سطحی سٹریٹجک ڈائیلاگ
سنیارٹی کی اہمیت
جسٹس شکیل احمد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ انڈیا میں ہائیکورٹس ججز کی سنیارٹی لسٹ ایک ہی ہے۔ وکیل حامد خان نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ ججز ٹرانسفر کے عمل میں چیف جسٹس آف پاکستان نے بامعنی مشاورت ہی نہیں کی، جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ججز ٹرانسفر کے عمل میں مشاورت نہیں بلکہ رضا مندی لینے کی بات کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہم سب کے سامنے ہے، بروقت اور سخت سزا انکی ترقی کا راز ہے، بات سمجھ کی ہے کوئی جتنی جلدی سمجھ جائے اتنا ہی بہتر ہے
ججز کو منتقل کرنے کا مقصد
وکیل حامد خان نے کہا کہ اصل مقصد جسٹس سرفراز ڈوگر کو لانا تھا۔ باقی 2 ججز کا ٹرانسفر تو محض دکھاوے کے لیے کیا گیا۔ آرٹیکل 200 کا استعمال اختیارات کے غلط استعمال کے لیے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد، شوہر نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر بیوی کو قتل کردیا
نوٹیفکیشن کا ذکر
بانی پی ٹی آئی کے وکیل ادریس اشرف نے اس موقع پر کہا کہ ججز ٹرانسفر کی میعاد کا نوٹیفکیشن میں ذکر نہیں ہے۔ ججز کو ٹرانسفر کر کے پہلے سے موجود ہائیکورٹ میں ججز کے مابین تفریق پیدا نہیں کی جا سکتی۔ ججز کے مابین الگ الگ برتاؤ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: کور کمانڈر بہاولپور کا بھارت کے میزائل حملے میں زخمیوں کی عیادت کے لیے وکٹوریا ہسپتال کا دورہ
آرٹیکل 25 کی اہمیت
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ججز ٹرانسفر کے عمل میں آرٹیکل 25 کو سامنے رکھا جائے؟۔ اگر ججز کا ٹرانسفر دو سال کے لیے ہوتا تو کیا آپ اس پر مطمئن ہوتے؟۔ اصل سوال سینیارٹی کا ہے۔
کیس کی مزید سماعت
بعد ازاں کیس کی سماعت کل ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی گئی، جس میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔








