اسلام آباد میں سنسنی خیز پولیس مقابلہ، 8 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا
اسلام آباد پولیس کی کامیاب کارروائی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) تھانہ کراچی کمپنی کی حدود سے اغواء ہونے والے دو مغوی افراد کو اسلام آباد پولیس نے کامیاب کارروائی کے بعد بحفاظت بازیاب کرا لیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے مارچ میں وطن بھیجی گئی ترسیلات زر کا ڈیٹا جاری کر دیا
ملزمان کی گرفتاری
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس نے اغواء اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث آٹھ ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے 61 ممالک میں 21 ہزار 647 پاکستانی قید ہونے کا انکشاف
بازیابی کی کارروائی
ترجمان پولیس کے مطابق مغویوں کی بازیابی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کیمرہ جات اور انسانی ذرائع کا مؤثر استعمال کیا گیا۔ خفیہ اطلاع پر تھانہ کرپا کی حدود میں ایک ڈیرے پر چھاپہ مارا گیا، جہاں مغویوں کو رکھا گیا تھا.
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال
پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت
چھاپے کے دوران ملزمان نے پولیس ریڈنگ پارٹی پر فائرنگ کر دی، تاہم پولیس اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت اور بلٹ پروف جیکٹس کی بدولت خود کو محفوظ رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ، کیا خطرے کی گھنٹی ہے؟ ویڈیو تجزیہ
جوابی کارروائی
پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران ایک ملزم فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہو گیا، جسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے کرپٹو کے شعبے میں جو کام مہینوں پہلے کردیا، اسرائیل وہ کرنے کا اب سوچ رہا ہے۔
برآمد شدہ اسلحہ
پولیس نے جائے وقوعہ سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور ایمونیشن بھی برآمد کر لیا ہے۔ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے، اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پختونخوا: سرکاری محکموں کی میٹنگز 100 فیصد ورچوئل ہونگی، 50 فیصد ورک فرام ہوم نافذ کرنے کا فیصلہ
ڈی آئی جی کا اعلان
ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق نے اس کامیاب کارروائی پر ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے نقد انعامات کا اعلان کیا۔
عوام سے تعاون کی اپیل
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس ایک محنتی، پروفیشنل اور جدید وسائل سے لیس فورس ہے، جو عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
ڈی آئی جی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں تاکہ شہر کو جرائم سے پاک رکھا جا سکے۔








