مولانا فضل الرحمان کا کم عمری کی شادی پر پابندی کے بل سے متعلق بڑا اعلان
مولانا فضل الرحمان کا بیان
اسلام آباد (ویب ڈیسک) جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کم عمری پر پابندی سے متعلق بل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے واپس نہ لینے پر سڑکوں پر نکلنے کا عندیہ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹ میٹرنگ صارفین کے لئے بلنگ پالیسی میں تبدیلی نافذ، صارفین کیلئے ایکسپورٹ ریٹ میں 66 پیسے کمی
قومی اسمبلی میں اظہار خیال
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ وقت ملی یکجہتی اور اتحاد قائم کرنے کا ہے اور ایسے میں حکومت متنازع بل منظور کروا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارہ سال سے کم بچوں کی شادی کے ممانعت کا بل لایا گیا، کیا اس بل کو لانے کا یہ موقع تھا۔ اب میں اس بل کی مخالفت کروں گا تو کہیں گے مولانا صاحب کیا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ اس قسم کی حرکتیں نہ کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: رینجرز اہلکاروں پر گاڑی کس نے چڑھائی ، چونگی نمبر 26پر کیا ہوا , اب تک کتنے سیکیورٹی اہلکار شہید و زخمی ہوئے ۔۔۔؟ اہم تفصیلات جانیے
سپیکر سے مطالبہ
مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر سے بل کے خلاف رولنگ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے بل منظور کر کے سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ یہ قانون سازی روکیں اور اسلامی نظریاتی کونسل بھیجیں اگر انہیں اعتراض نہ ہوا تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کے خلاف سیاسی اختلافات بھلا کر یکجا ہونے کی ضرورت ہے: خواجہ آصف
بھارت کے جارحانہ اقدامات
علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ پورا ملک اور پارلیمان متفق ہے کہ ہندوستان نے جارحیت کی ہے، پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر بلا تحقیق پاکستان پر الزام دھر دیا اور اپنی سیکیورٹی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر گرا دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے سولین اور مذہبی مراکز پر میزائل گرائے گئے، مساجد اور نزدیک کی فیملیز کو نشانہ بنا کر دعویٰ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے مراکز پر حملہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش نے 1971 کے بعد پہلی بار پاکستانی حکام کے لیے ویزا کی شرط ختم کردی
افواج پاکستان کی تعریف
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور فوج اعتراف کر رہی ہے کہ قوم پشت پر نہیں ہے تو جنگ نہیں لڑ سکتی، بھارت نے الزام لگایا اور حملے میں بھی پہل کی جبکہ افواج پاکستان نے جس طرح دفاع کیا اور جواب دیا تاریخ یاد رکھے گی۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ میں افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جنگ بندی ہوئی لیکن صورتحال برقرار ہے، ضرورت ہے کہ قومی یکجہتی کو برقرار رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں: رواں مالیروا سال موٹر سائیکلوں کی فروخت میں بڑا اضافہ
مودی کی صورتحال
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی پارلیمنٹ میں اراکین حکومت کا مذاق اڑا رہے ہیں، مودی تنہا ہے کوئی عوامی سپورٹ نہیں مل رہا، مودی اپنی فیس سیونگ کیلئے اس قسم کی حرکت دوبارہ کرسکتا ہے، چین کی اقتصادی دوستی اب دفاعی میدان میں داخل ہوچکی ہے اور ہمیں اپنے دوست چین پر اعتماد کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: دورۂ امریکہ، اسحاق ڈار واشنگٹن بھی جائیں گے، اہم شخصیت سے ملاقات طے
چین کی ٹیکنالوجی کی کامیابی
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ یورپ اور اسرائیلی ٹیکنالوجی مات کھا گئی، چین اور ایشیا کی ٹیکنالوجی کامیاب ہوگئی، دنیا نے دیکھا کہ ہمارے ہوا بازوں نے کیسے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔
افغانستان کی سرحد کی اہمیت
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسے وقت میں ضروری ہے کہ افغانستان کے سرحد کو پُرامن رکھیں، آج ایوان میں وزیرستان کے ڈرون حملے پر بات ہوئی، ہم نے پشاور اور کوئٹہ میں ملین مارچ کی۔
ہم قومی یکجہتی اور خوف کو توڑنے کیلئے جلسے کیے اور دنیا کو بتایا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے لوگ زندہ ہیں۔








