داستان گوئی پراجیکٹ کے آغاز کا فیصلہ
اجلاس کا آغاز
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب لائبریریز فاؤنڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کا 69واں اہم اجلاس قائداعظم لائبریری لاہور میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت بورڈ کے چیئرمین جاوید اسلم نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صوبے سیستان میں 8 معصوم پاکستانیوں کا بہیمانہ قتل انتہائی تکلیف دہ امر ہے:وزیراعلیٰ مریم نواز
داستان گوئی پراجیکٹ
اجلاس میں بچوں میں کتب بینی کے فروغ کے لیے "داستان گوئی پراجیکٹ" کے آغاز کی منظوری دی گئی۔ اس پراجیکٹ کے تحت صوبے بھر کی لائبریریوں میں بچوں کے لیے دلچسپ، سبق آموز اور تخلیقی داستان گوئی کے سیشنز منعقد کیے جائیں گے، جن کا مقصد بچوں کی تخیل پروری، علمی شغف اور کتاب سے وابستگی کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے پاکستان کو دریائے ستلج پر اونچے درجے کے سیلاب سے آگاہ کردیا
ای-لائبریری منصوبہ
اجلاس کے دوران سیکرٹری آرکائیوز اینڈ لائبریریز جناب محمد خان رانجھا نے شرکاء کو "ای-لائبریری" منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور اس کی علمی و تعلیمی افادیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے صوبے بھر میں قائم کمیونٹی لائبریریز کو فعال بنانے کے لیے تجاویز بھی پیش کیں، جن میں لائبریری عملے کی تربیت، کتابوں کی فراہمی، جدید سہولیات کی فراہمی، اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت جیسے نکات شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی و نیم شہری علاقوں میں لائبریری کلچر کو پروان چڑھانے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کا ایکشن، عمرہ ویزے پر سعودی عرب بھیک مانگنے والے 16 افراد گرفتار
مالیاتی حکمت عملی
ڈائریکٹر پنجاب لائبریریز فاؤنڈیشن عبد الرحمٰن آصف نے اجلاس کے دوران بورڈ کو ادارے کے انڈوئمنٹ فنڈ کی موجودہ حیثیت، اس کے استعمال کی شفاف حکمت عملی، اور مالیاتی ضوابط سے آگاہ کیا۔ انہوں نے لائبریریز کی کٹیگریز کا تفصیلی خاکہ پیش کیا اور ہر کٹیگری کے لیے مختص فنڈز کی تقسیم، ترجیحات اور اہداف سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: مڈغاسکر میں پرتشدد عوامی مظاہرے، صدر نے حکومت تحلیل کر دی
ادبی تعاون
معروف شاعر اور ادبی شخصیت عباس تابش، جو ادارہ ترقی ادب کی نمائندگی کر رہے تھے، نے نہ صرف داستان گوئی پراجیکٹ میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی بلکہ ادبِ اطفال کے فروغ کے لیے دیگر مشترکہ منصوبوں کی تجاویز بھی پیش کیں۔
یہ بھی پڑھیں: Severe Flooding in U.S. States Leads to Devastation: 223 Lives Lost, Many Missing
لائبریری کارنرز کا قیام
مزید برآں، پرائمری اسکولوں میں "لائبریری کارنرز" کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا، تاکہ کم عمر بچوں کو بچپن سے ہی مطالعے کی جانب راغب کیا جا سکے۔ یہ کارنرز رنگین، پرکشش اور عمر کے مطابق کتب پر مشتمل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ کی صورتحال میں بہتری کے باوجود لاہور ملک کا آلودہ ترین شہر
بین الادارہ جاتی تعاون
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ادارہ تعلیم و آگاہی، ادارہ ترقی ادب، اور اردو سائنس بورڈ کے ساتھ اشتراک عمل کے ذریعے مختلف تعلیمی، ادبی اور تربیتی سرگرمیاں ترتیب دی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف شدید مالی بحران کا شکار، سیکریٹریٹ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد کمی
شرکاء کی فہرست
اجلاس میں جن معزز اراکین نے شرکت کی اُن میں اطہر علی خان (سابق ڈی جی پی آر)، کنول امین (وائس چانسلر فیصل آباد ویمن یونیورسٹی)، شاھد حسین (سابق ایم ڈی پیپرا)، ڈاکٹر نوشین فاطمہ، رخشندہ کوکب (ڈائریکٹر لائبریری یو سی پی)، اور بیلا جمیل (ادارہ تعلیم و آگاہی) شامل تھیں۔
اختتام
یہ اجلاس پنجاب میں علم و ادب کے فروغ کے حوالے سے ایک تازہ عزم، عملی منصوبہ بندی اور بین الادارہ جاتی تعاون کا مظہر تھا، جو مستقبل قریب میں نوجوان نسل کے لیے مثبت تبدیلیوں کا پیش خیمہ بنے گا۔








