تجمل کلیم کی وفات سے پنجابی ادب ایک عظیم تخلیق کار سے محروم ہو گیا: نور اللہ صدیقی
تجمل کلیم کا انتقال
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب ناظم اعلیٰ میڈیا افیئرز منہاج القرآن انٹرنیشنل نور اللہ صدیقی نے پنجابی ادب کے ممتاز شاعراستاد تجمل کلیم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شام میں عبوری حکومت بنانے کی ذمہ داری محمد البشیر کے سپرد
پنجابی ادب کی شمع
نور اللہ صدیقی نے کہا کہ استاد تجمل کلیم نے پنجابی ثقافت کو اپنی تخلیقات کے ذریعے دنیا بھر میں زندہ رکھا اور پنجابی زبان و ادب کو نیا ذخیرہ الفاظ عطا کیا۔ ان کا منظوم پنجابی اثاثہ ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے 5 سال میں ملائیشیا کو حلال گوشت کی 52 کروڑ ڈالر برآمدات کا ہدف مقرر کردیا
ادبی ورثہ
تجمل کلیم میں وارث شاہؒ، بابا بلھے شاہؒ، حسین شاہؒ سمیت تمام صوفیا کا ادبی رنگ جھلکتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تجمل کلیم وارث شاہ کے ادبی ورثے کے حقیقی وارث تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایس پی عدیل اکبر کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا
نوجوانوں کی آواز
تجمل کلیم آج کے نوجوان کی آواز بھی بن چکے تھے اور انہوں نے پنجابی زبان و ادب کو عصری رنگ اور آہنگ کے ساتھ بیان کیا۔ ان کے بیشتر اشعار ضرب المثل کا مقام حاصل کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست دائر
نقل وی اشاعت
تجمل کلیم کی وفات سے پنجابی ادب ایک عظیم تخلیق کار سے محروم ہو گیا ہے۔ ان کا ادبی ورثہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔
دعائیہ کلمات
اللہ تعالیٰ استاد تجمل کلیم کی بخشش و مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔








