امریکی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو ہارورڈ کے غیر ملکی طلباء پر پابندی لگانے سے روک دیا
امریکی جج کا فیصلہ
نیویارک (ویب ڈیسک) ایک امریکی جج نے جمعہ کے روز ٹرمپ انتظامیہ کو ہارورڈ یونیورسٹی میں غیر ملکی طلباء کے داخلے پر پابندی کے فیصلے سے روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: شملہ معاہدہ تاحال منسوخ نہیں کیا گیا، نجی نیوز چینل کا دعویٰ
ٹرمپ انتظامیہ کا متنازع اقدام
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک متنازع اقدام کے تحت ہارورڈ یونیورسٹی کو غیرملکی طلبا کو داخلہ دینے سے روکنے کا حکم دیا تھا۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کی طلباء اور وزیٹر ایکسچینج پروگرام (SEVP) کی سرٹیفیکیشن منسوخ کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں یونیورسٹی اب غیرملکی طلبا کو داخلہ نہیں دے سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: دھی رانی پروگرام کے تحت ریکارڈ اجتماعی شادیاں، 9 ماہ میں 66 تقریبات، 4857 جوڑے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئے
ہارورڈ کی قانونی کارروائی
آج نیوز کے مطابق ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوم نے ہارورڈ انتظامیہ کو اس فیصلے سے باضابطہ طور پر ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا جس میں کہا گیا کہ یہ اقدام یونیورسٹی میں جاری ایک تفتیش کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے چادر کے مطابق پاؤں پھیلانے کا راستہ اختیار نہ کیاتو دستیاب وسائل سے زائد رقم قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو گی۔
اس فیصلے کے اثرات
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہارورڈ نے جمعہ کو بوسٹن کی وفاقی عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں اس منسوخی کو امریکی آئین اور دیگر وفاقی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا فوری اور تباہ کن اثر یونیورسٹی اور 7 ہزار سے زائد ویزا ہولڈرز پر پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے کل اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے ایک بار پھر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا نام ارسال
ہارورڈ یونیورسٹی کی اہمیت
ہارورڈ کے مطابق ایک قلم کے وار سے حکومت نے ہارورڈ کے ایک چوتھائی طلباء کو مٹانے کی کوشش کی ہے، بین الاقوامی طلباء یونیورسٹی اور اس کے مشن میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ 389 سال پرانی ہارورڈ یونیورسٹی انتظامیہ نے مزید کہا کہ بین الاقوامی طلباء کے بغیر ہارورڈ، ہارورڈ نہیں رہتا۔
جسٹس ایلیسن بوروگز کا حکم
امریکی ضلعی جج ایلیسن بوروگز، جو ڈیموکریٹک صدر باراک اوباما کی تقرری ہیں، نے عارضی روک تھام کا حکم جاری کیا جس سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی منجمد ہو گئی۔








