امریکی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو ہارورڈ کے غیر ملکی طلباء پر پابندی لگانے سے روک دیا
امریکی جج کا فیصلہ
نیویارک (ویب ڈیسک) ایک امریکی جج نے جمعہ کے روز ٹرمپ انتظامیہ کو ہارورڈ یونیورسٹی میں غیر ملکی طلباء کے داخلے پر پابندی کے فیصلے سے روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی آسٹریلیا کے خلاف ٹی 20 سیریز میں فتح پر مبارکباد
ٹرمپ انتظامیہ کا متنازع اقدام
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک متنازع اقدام کے تحت ہارورڈ یونیورسٹی کو غیرملکی طلبا کو داخلہ دینے سے روکنے کا حکم دیا تھا۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کی طلباء اور وزیٹر ایکسچینج پروگرام (SEVP) کی سرٹیفیکیشن منسوخ کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں یونیورسٹی اب غیرملکی طلبا کو داخلہ نہیں دے سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: سفیر پاکستان فیصل نیاز ترمذی کا نارتھ لندن کالجیٹ سکول دبئی ماڈل اقوام متحدہ (NLCSDMUN) کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب
ہارورڈ کی قانونی کارروائی
آج نیوز کے مطابق ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوم نے ہارورڈ انتظامیہ کو اس فیصلے سے باضابطہ طور پر ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا جس میں کہا گیا کہ یہ اقدام یونیورسٹی میں جاری ایک تفتیش کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شام کے معزول صدر بشار الاسد اور اُن کا خاندان روس پہنچ گیا
اس فیصلے کے اثرات
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہارورڈ نے جمعہ کو بوسٹن کی وفاقی عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں اس منسوخی کو امریکی آئین اور دیگر وفاقی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا فوری اور تباہ کن اثر یونیورسٹی اور 7 ہزار سے زائد ویزا ہولڈرز پر پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف سے قرض کی دوسری قسط کی منظوری، انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں بڑی کمی
ہارورڈ یونیورسٹی کی اہمیت
ہارورڈ کے مطابق ایک قلم کے وار سے حکومت نے ہارورڈ کے ایک چوتھائی طلباء کو مٹانے کی کوشش کی ہے، بین الاقوامی طلباء یونیورسٹی اور اس کے مشن میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ 389 سال پرانی ہارورڈ یونیورسٹی انتظامیہ نے مزید کہا کہ بین الاقوامی طلباء کے بغیر ہارورڈ، ہارورڈ نہیں رہتا۔
جسٹس ایلیسن بوروگز کا حکم
امریکی ضلعی جج ایلیسن بوروگز، جو ڈیموکریٹک صدر باراک اوباما کی تقرری ہیں، نے عارضی روک تھام کا حکم جاری کیا جس سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی منجمد ہو گئی۔








