عمران خان کے لیے خاموش سفارتکاری؟ امریکہ سے اب کی بار تازہ کاوشوں کے سلسلے میں پاکستان پہنچنے والوں کا پتہ چل گیا
اسلام آباد میں نئی کوششیں
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی انصار عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان کیلئے خاموش سفارتکاری میں شامل امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹرز اور تاجر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی رہائی کی تازہ کوششوں کے سلسلے میں ایک مرتبہ پھر پاکستان پہنچ گئے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پاکستان میں حکام کے ساتھ رابطوں کی کوشش کے ساتھ تجزیہ کار اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ کوششیں مفاہمت کے نئے مرحلے کا اشارہ دیتی ہیں یا پھر پی ٹی آئی ایک اور موقع ضائع کر دے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ کی دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کی ترقی میں شامل ہونے کی دعوت
ڈاکٹرز اور تاجروں کا وفد
روزنامہ جنگ کے لیے انہوں نے لکھا کہ پاکستانی ڈاکٹروں اور تاجروں کے ایک گروپ نے چند ماہ قبل اسلام آباد کے دورے کے دوران ایک سینئر عہدیدار کے ساتھ ساتھ عمران خان سے جیل میں ملاقات کی تھی۔ یہ گروپ اس وقت لاہور میں موجود ہے تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد اب تک عمران خان سے ملاقات میں کامیاب نہیں ہو پایا، اس بات کی تصدیق بھی نہیں ہوئی کہ کسی اہم عہدیدار کے ساتھ اس وفد کی کوئی بات چیت ہوئی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سفیرپاکستان فیصل نیاز ترمذی کا پاکستانی اور بین الاقوامی فنکاروں پر مشتمل اتحاد ماڈرن آرٹ گیلری کا دورہ
آنے والے رابطوں کی اہمیت
اس وفد کیلئے آئندہ ہفتے کے دوران ہونے والے رابطوں کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دورے پی ٹی آئی کے حامیوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے عمران خان کے قانونی اور سیاسی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کے بعد امریکا متحرک ہوا: اسحاق ڈار
سماجی میڈیا اور سیاسی مذاکرات
حالیہ مہینوں کے دوران، کچھ غیر رسمی رابطوں کے باوجود کسی اہم پیشرفت کی اطلاع نہیں ملی۔ اس معاملے سے آگاہ ذرائع کے مطابق، ایسی کوششوں میں پیشرفت نہ صرف سیاسی مذاکرات پر منحصر ہے بلکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کے طرز عمل اور پارٹی کے غیر ملکی چیپٹرز، بالخصوص امریکا اور برطانیہ کے پیغامات پر بھی منحصر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا اسرائیل کے 2 لڑاکا طیارے مار گرانے کا دعویٰ
فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بیانات
فوجی اسٹیبلشمنٹ نے متعدد مرتبہ کہا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کرے گی، اس کی بجائے سیاسی جماعتیں اپنے مسائل آپس میں خود حل کریں۔ لیکن اس کے باوجود، پی ٹی آئی کے کچھ رہنما ایسے بیانات کے باوجود اہم عہدیداروں کے ساتھ پس پردہ بات چیت کیلئے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کا مشرقی ایشیا کے سولر پینلز پر بھارتی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیا
عسکری قیادت پر تنقید کی رکاوٹیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور منسلک بین الاقوامی چیپٹرز کے ذریعے عسکری قیادت پر مسلسل تنقید کسی بھی ممکنہ مفاہمت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ فوج پر تنقید پر مبنی مہمات، غلط معلومات پھیلانا، اور بین الاقوامی لابنگ کی کوششیں بشمول واشنگٹن اور لندن پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی میں پاک افغان مذاکرات کا دوسرا روز، پاکستان کا تمام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی پر زور
پارٹی کی اندرونی صورتحال
پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت میں سے کچھ نجی طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ ایسے جارحانہ ہتھکنڈوں نے پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے، خصوصاً ایسی کوششوں کو زیادہ نقصان ہوا ہے جن کا مقصد عمران خان کیلئے ریلیف کا حصول ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ-1 کامیابی سے مکمل کر لیا: آئی ایس پی آر
نئی حکمت عملی کی ضرورت
پارٹی کے اندر اس بات کا اعتراف بڑھ رہا ہے کہ پارٹی کو بامعنی مذاکرات کے قابل بنانے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی جارحانہ پالیسی کو کم کرنا ہوگا۔
مبصرین کی رائے
مبصرین کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کے قسمت میں بہتری بالخصوص عمران خان کی مشکلات میں کمی کا انحصار پارٹی کی جانب سے مثبت رویہ اختیار کرنے، معیشت کی بہتری کی کوششوں میں خلل نہ ڈالنے اور ریاستی اداروں پر تنقید روکنے پر ہوگا۔








