چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے لاکھوں کی رقم واپس لینے میں کامیاب ہوگیا، صارف کا دعویٰ
مصنوعی ذہانت اور اس کی طاقت
لاہور (ویب ڈیسک) آج کی ڈیجیٹل دنیا میں مصنوعی ذہانت، خاص طور پر چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز، نہ صرف سوالات کے جواب دینے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں بلکہ ایک ذہین معاون کے طور پر بھی کام انجام دے رہے ہیں۔ حالیہ میں، ایک صارف نے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے لاکھوں کی رقم واپس ملنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، ڈیفنس میں مزدوروں پر تشدد کرنے والا بااثر شخص گرفتار کر لیا گیا
ایک ریڈٹ صارف کی متاثر کن کہانی
آج نیوز کے مطابق، ایک واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ایک ریڈٹ صارف نے ذہنی بیماری کے باعث اپنا بین الاقوامی سفر منسوخ کیا اور 2,500 ڈالر کے نقصان کے دہانے پر کھڑا تھا۔ لیکن پھر اس نے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے ایک مؤثر خط کے ذریعے ناقابلِ واپسی رقم واپس حاصل کر لی۔ یہ کہانی صرف ایک شخص کی کامیابی نہیں بلکہ ایک نئے دور کی دستک بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تمام ٹول پلازوں کی کھلی نیلامی کا فیصلہ
سفر کی منسوخی اور چیٹ جی پی ٹی کی مدد
جی ہاں، ایک ریڈٹ صارف نے ایک غیر متوقع مگر متاثر کن کامیابی کی کہانی شیئر کی۔ اس نے بتایا کہ کس طرح چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے اس نے میڈیلین کولمبیا کی ناقابلِ واپسی فلائٹ اور ہوٹل بکنگ کی مد میں خرچ ہونے والے 2,500 ڈالر واپس حاصل کیے۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ سانحہ پر بات کرتے کرتے آپ اٹھارویں ترمیم پر بات کرنے لگے ہیں، شازیہ مری۔
ذہنی بیماری اور چیلنجز
ریڈٹ پر ’Never take no for an answer’ کے عنوان سے کی گئی پوسٹ میں صارف نے بتایا کہ وہ جنرلائزڈ اینزائٹی ڈس آرڈر (GAD) کی وجہ سے اپنا سفر منسوخ کرنے پر مجبور ہوا۔ مسئلہ یہ تھا کہ نہ تو فلائٹ اور نہ ہی ہوٹل نے رقم واپسی کی اجازت دی، اور اس نے کوئی ٹریول انشورنس بھی نہیں لی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی جی پی ایس بی کی تعیناتی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج
چیٹ جی پی ٹی کا حل
مایوسی کے عالم میں اس نے چیٹ جی پی ٹی-4o کی مدد لی۔ اس نے اپنی بیماری کی تفصیلات، ڈاکٹر کی رپورٹ کے ساتھ چیٹ جی پی ٹی کو فراہم کیں، جس پر چیٹ جی پی ٹی نے ایک مؤثر اور مدلل خط تیار کیا۔ اس خط کو اس نے Expedia اور ہوٹل کو بھیجا، لیکن ابتدا میں دونوں نے سخت پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے واپسی سے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: منہاج یونیورسٹی لاہور کا کانووکیشن، 1741 طلباء و طالبات میں ڈگریاں تقسیم، آج کے طلباء کل کے رہنما ہیں: چیئرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر طاہرالقادری کا خطاب
ایئرلائن کا جواب اور متاثر کن تبدیلی
ایئرلائن نے پہلے موقف اختیار کیا کہ وہ صرف موت یا لاعلاج بیماری کی صورت میں رقم واپس کرتی ہے۔ مگر جب صارف نے چیٹ جی پی ٹی کو یہ جواب دکھایا، تو اس نے ایک نیا خط تیار کیا جس میں بیان کیا گیا کہ ذہنی صحت کے مسائل بھی سفر پر اتنا ہی اثر انداز ہو سکتے ہیں جتنا جسمانی بیماریاں۔ حیرت انگیز طور پر، صرف ایک گھنٹے کے اندر ایئرلائن نے بھی رقم واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: قربانی کا گوشت جانور ذبح ہونے کے کتنی دیر بعد پکانا چاہیے؟ طبی ماہرین نے مشورہ دیدیا
صارف کی کامیابی اور سوشل میڈیا پر ردعمل
صارف نے لکھا، ’اگر چیٹ جی پی ٹی نہ ہوتا تو مجھے شاید کسی قانونی ماہر کی مدد لینا پڑتی۔ اس نے مجھے 2,500 ڈالر کے نقصان سے بچا لیا۔‘ یہ کہانی سوشل میڈیا اور ریڈٹ پر وائرل ہو گئی، جہاں کئی صارفین نے چیٹ جی پی ٹی کو ’ذاتی وکیل‘ کے طور پر استعمال کرنے کی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس علی باقر نجفی کی سپریم کورٹ تقرری کا نوٹیفکیشن جاری
شکوک و شبہات اور اخلاقی مباحث
تاہم کچھ افراد نے اس کہانی پر شکوک کا اظہار بھی کیا۔ کئی صارفین نے ثبوت مانگے کہ کیا واقعی رقم واپس ہوئی۔ کچھ نے اخلاقی پہلو پر سوال اٹھایا کہ کیا ذہنی بیماری کو ایسی صورت میں پیش کرنا مناسب تھا۔
نتیجہ: مصنوعی ذہانت کا مستقبل
ایک صارف نے تبصرہ کیا، ’ذاتی معلومات ہٹا کر ای میلز کے اسکرین شاٹس شیئر کرو تاکہ ہم بھی سیکھ سکیں اور سچائی کی تصدیق ہو سکے۔‘ ایک اور نے کہا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ اس نے کیا کیا، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز ان لوگوں کے لیے کتنے قیمتی ہو سکتے ہیں۔ اس واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف معلومات کے لیے ہی نہیں بلکہ عام افراد کے مسائل کے حل میں بھی کارگر ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اخلاقی حدود کو مدنظر رکھا جائے۔








