پاکستان میں شمسی توانائی کی صلاحیت 4.1 گیگاواٹ تک پہنچ گئی، پیرووسکائٹ سولر سیلز کا مستقبل قرار
پاکستان میں شمسی توانائی کی ترقی
لاہور (پروموشنل ریلیز) دسمبر 2024ء تک پاکستان میں آن گرڈ نیٹ میٹرنگ کے تحت نصب شدہ شمسی توانائی کی صلاحیت تقریباً 4.1 گیگاواٹ تک پہنچ گئی، جو جون 2023ء میں 1.3 گیگاواٹ تھی۔ اس کے علاوہ صنعتی شعبے میں 3 سے 4 گیگاواٹ کی آف گرڈ شمسی تنصیبات بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی سے ملنے والی 1800 سال پرانی ایسی چیز جو یورپ میں عیسائیت کی تاریخ بدل سکتی ہے
شمسی توانائی کا مقام
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی سینئر ریسرچ اکانومسٹ ٹیم کے مطابق، شمسی توانائی پاکستان میں تیسری بڑی توانائی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایک گرین انرجی کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کو “سپر سی ایم” کا خطاب مل گیا
پیرووسکائٹ سولر ٹیکنالوجی
ایک رپورٹ کے مطابق، آئی پی آر ڈیلی نے چینی کمپنی ٹرائناسولر کو پیرووسکائٹ سولر سیل ٹیکنالوجی سے متعلق پیٹنٹس میں دنیا میں پہلے نمبر پر رکھا ہے۔ کمپنی نے اس شعبے میں 481 بین الاقوامی پیٹنٹس درج کروائے ہیں، جس کی بدولت وہ شمسی توانائی کی اگلی بڑی تحقیق میں صنعت کی قیادت کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد سلنڈر دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل، جاں بحق افراد سپردِ خاک
شمسی توانائی کا مستقبل
پیرووسکائٹ سولر سیلز کو شمسی توانائی کا مستقبل سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ان میں موجودہ سلیکون پر مبنی پینلز کے مقابلے میں کم لاگت پر زیادہ توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے, لیبارٹری کے تجربات میں یہ نئے سیلز 43 فیصد تک افادیت (ایفی شینسی) حاصل کر سکتے ہیں۔
ٹرائناسولر کا عزم
ٹرائناسولر کے چیئرمین گاؤ جیفان نے کہا کہ “ہم بہتر شمسی ایجادات کے ساتھ عالمی توانائی کی منتقلی کی حمایت جاری رکھیں گے۔








