پاکستان نیوی آرڈیننس میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش
پاکستان نیوی آرڈینینس میں ترمیم
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نیوی آرڈینینس میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمازون کا اپنے 30 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ
ترمیم کی اہم خصوصیات
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، اس ترمیمی بل کے تحت صدر مملکت پاکستان نیوی اور اس کے ریزرو کو بڑھا سکیں گے۔ نیوی کا کنٹرول اور کمانڈ وفاقی حکومت کے پاس ہوگی، جبکہ نیوی کا انتظام چیف آف نیول اسٹاف کو تفویض کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ ایرانی حکام سے جلد ملاقات کے خواہش مند، انتظامیہ کو اہتمام کرنے کی ہدایت کردی
طیاروں کی تعریف میں توسیع
ترمیمی بل میں طیاروں کی تعریف میں ہوائی جہاز، ائیرشپ، گلائیڈرز اور دیگر اڑنے والی مشینیں شامل کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جب پاکستان اور سعودیہ عرب دونوں اکٹھے ہو گئے تو یہ ایک ورلڈ سپرپاور تصور ہوں گے، رانا ثنا اللہ
بحری جہاز کی کمانڈ
بل کے مطابق قافلے میں شامل کسی بحری جہاز کا انچارج قافلے کے کمانڈ افسر کی ہدایت پر عمل کرے گا اور جہاز کا انچارج دشمن سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرے گا۔ اگر انچارج ہدایت پر عمل نہ کرے تو افسر زور زبردستی سے حکم منواسکتا ہے، بشرطیکہ اس سے جانی یا مالی نقصان نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: محمد صدیق شیخ نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ممبر کے طور پر حلف اٹھا لیا
شہریوں کے لیے پابندیاں
بل کے تحت جو شخص پاکستان کا شہری نہیں، دوہری شہریت رکھتا ہو یا 18 سال سے کم ہو، وہ نیوی میں کمیشن حاصل نہیں کرسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کمسن بچی سے زیادتی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار
سزائیں اور احتیاطی تدابیر
بل میں ماتحت پر مجرمانہ طاقت کے استعمال اور بدسلوکی کے لیے مختصر قید کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ نیوی افسران کے لیے کئی سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، جیسے بحری جہاز یا قافلے کا دفاع نہ کرنا یا رشوت لینا وغیرہ۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا ایران و عراق جانے والے زائرین کے لیے پروازوں میں اضافے کا فیصلہ
آفیشل سیکرٹ ایکٹ
بل کے تحت سرکاری معلومات افشا کرنے والے نیوی اہلکار کو 14 سال تک قید بامشقت ہوگی۔ اگر یہ معلومات ملکی سیکیورٹی یا مفاد کے لیے نقصان دہ ہوں تو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: دیاۓ سندھ سے سونا نکالنے کا کام شروع کر دیا گیا
سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں
نیوی کا کوئی بھی شخص ریٹائرمنٹ، رہائی، استعفے اور برطرفی کے 2 سال تک کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوگا، ورنہ اسے 2 سال تک قید بامشقت کی سزا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: موساد کے سربراہ کا واشنگٹن کا دورہ، لاکھوں فلسطینیوں کو غزہ سے دوسرے ممالک منتقل کرنے میں مدد مانگ لی
قومی ترقی کی سرگرمیاں
بل کے تحت، نیوی وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی رضامندی سے قومی ترقی یا اسٹریٹیجک مفاد کے فروغ کے لیے سرگرمیاں کرسکے گی۔
دیگر بلز
پاکستان نیوی آرڈینینس میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان سٹیزن ایکٹ ترمیمی بل بھی سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان کی شہریت چھوڑنے والا دوبارہ شہریت بحال کرسکتا ہے۔
مزید برآں، سول سرونٹس ترمیمی بل کے مطابق گریڈ 17 سے بالا افسران کو اپنے اور اپنی فیملی کے ملکی یا غیر ملکی اثاثوں کی تفصیلات ایف بی آر میں فائل کرانی ہوں گی۔








