فوج کی ہر ممکن مدد کریں گے، وزیرخزانہ کا بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے بھی ریلیف کا اشارہ
وزیر خزانہ کا ریلیف کا اشارہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افواج پاکستان کی ہر ممکن مدد کریں گے، یہ صرف افواج کی نہیں پاکستان کی ضرورت ہے، سول ملٹری تنخواہوں کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: اٹک میں 3 ماہ کیلئے دفعات 144 نافذ
بھارت کی آئی ایم ایف میں مداخلت
ڈان نیوز کے مطابق اسلام آباد میں تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بھارت نے آئی ایم ایف بورڈ میں قرض پروگرام ڈی ریل کرنے کی کوشش کی، کوشش کی گئی اجلاس نہ ہو اور پاکستان کا ایجنڈا ڈسکس نہ ہو تاہم پاکستان کا کیس میرٹ پر ڈسکس ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کی تفصیلات
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف تمام اہداف پورے کیے، اگر پاکستان اہداف پورے نہ کرتا تو مشکل پیش آتی، آئی ایم ایف پروگرام پر عمل جاری رکھیں گے، آئی ایم ایف مشن واپس جا چکا ہے، وفد کے ساتھ تعمیری بات چیت ہوئی ہے، پاکستان کو آئی ایم ایف کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے کوئی فیصلہ نہ کیا، یوں ایک اور عجوبہ لائن کا اختتام ہوا، جسے دیکھنے کے لیے غیر ملکی سیاح بھی یورپ اور امریکہ وغیرہ سے آتے رہے تھے۔
تجاویز اور حکمت عملی
وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ رواں ہفتے ورچوئل بات چیت جاری رہے گی، انہوں نے واضح کیا کہ سول ملٹری تنخواہوں کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں چوری کے شبے میں ایک شخص نے اپنی دسویں بیوی کو قتل کردیا
معاشی بہتری کا اعتراف
قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کر رہی ہے اور معاشی بہتری کی رفتار پر حیران ہے، تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مقامی گیس کی عدم فراہمی اور درآمدہ ایل این جی پر انحصار کا تجربہ ناکام، کے الیکٹرک نے 2 گیس پاور پلانٹس بند کرنے کا اعلان کر دیا
پنشن اصلاحات اور مستقبل کی حکمت عملی
محمد اورنگزیب نے کہاکہ پنشن اصلاحات پر بھی کام کر رہے ہیں، قرضوں میں ادائیگی کا بوجھ کم ہونے کی توقع ہے، دنیا پاکستان کے مائیکرو اکنامک استحکام سے مطمئن ہے، حکومت طویل المدتی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مرچیں جلانا، بکرے کے سر قبرستان پھینکوانا، بشریٰ کے آنے کے بعد عمران خان کے گھر عجیب رسومات شروع ہوئیں: دی اکانومسٹ
بجٹ کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کم کرنے کی کوشش رہے ہیں، بجٹ صرف آمدن اور اخراجات کا نام نہیں بلکہ اسٹریٹجی بنانا ہوگی۔ ہمیں معاشی محاذ پر بھی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پورے خطے کے امن و استحکام کیلیے تشویشناک ہے: عظمیٰ بخاری
فوری اصلاحات کا عمل
وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کررہی ہے اور شرح سود میں نمایاں کمی کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ مزید کہا کہ ایف بی آر میں انسانی مداخلت کم ہونے سے شفافیت آئے گی، ٹیکس نظام اور دیگر شعبوں میں اصلاحات لارہے ہیں، تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس جمع کرانے کا عمل آسان بنانا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اپنے زور بازو سے جیل سے نکلیں گے، مغرب تو ان کی قید کی وجہ ہے: بیرسٹر عمیر نیازی
نجی شعبے کا کردار
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت طویل المدتی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے، جبکہ نجی شعبہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابراعظم نے 2021ء کے بعد سے کسی بھی فل ممبر ٹیم کے خلاف ٹی 20 ورلڈ کپ میں ایک بھی چھکا نہیں مارا۔
آئندہ بجٹ کی اہمیت
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ آئندہ بجٹ ملکی معیشت کے لیے اسٹریٹجک سمت کا تعین کرے گا، بجٹ صرف آمدنی اور اخراجات کا مجموعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں مستقبل کے لیے ایک واضح حکمت عملی بھی شامل ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ میں ای کامرس یا آن لائن کاروبار کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ
برآمدات پر توجہ
وزیر خزانہ نے برآمدات پر مبنی ترقی کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان کی معیشت 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، عالمی برادری پاکستان کی اقتصادی بحالی اور میکرو اکنامک استحکام کو تسلیم کر رہی ہے۔
اصلاحات کا تسلسل
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت موجودہ تعمیری اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے گی، جن میں ٹیکس نظام، توانائی کے شعبے، سرکاری اداروں کی اصلاحات اور وفاقی حکومت کی ساخت میں درستی شامل ہیں، تاکہ پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔








