فوج کی ہر ممکن مدد کریں گے، وزیرخزانہ کا بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے بھی ریلیف کا اشارہ
وزیر خزانہ کا ریلیف کا اشارہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افواج پاکستان کی ہر ممکن مدد کریں گے، یہ صرف افواج کی نہیں پاکستان کی ضرورت ہے، سول ملٹری تنخواہوں کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: جھنگ کے سیلاب سے متاثرہ دیہاتوں میں ہلال احمر کی امدادی سرگرمیاں جاری
بھارت کی آئی ایم ایف میں مداخلت
ڈان نیوز کے مطابق اسلام آباد میں تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بھارت نے آئی ایم ایف بورڈ میں قرض پروگرام ڈی ریل کرنے کی کوشش کی، کوشش کی گئی اجلاس نہ ہو اور پاکستان کا ایجنڈا ڈسکس نہ ہو تاہم پاکستان کا کیس میرٹ پر ڈسکس ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار نے بھارتی اداروں کو ’’سیاسی ہتھیار ‘‘میں بدل دیا، عوام کے بجٹ کے غلط استعمال پر آوازیں اٹھنے لگیں
آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کی تفصیلات
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف تمام اہداف پورے کیے، اگر پاکستان اہداف پورے نہ کرتا تو مشکل پیش آتی، آئی ایم ایف پروگرام پر عمل جاری رکھیں گے، آئی ایم ایف مشن واپس جا چکا ہے، وفد کے ساتھ تعمیری بات چیت ہوئی ہے، پاکستان کو آئی ایم ایف کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی ‘سیلیکون ویلی’ زیرِ آب، شدید بارشوں نے بنگلورو کا نظامِ زندگی درہم برہم کردیا
تجاویز اور حکمت عملی
وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ رواں ہفتے ورچوئل بات چیت جاری رہے گی، انہوں نے واضح کیا کہ سول ملٹری تنخواہوں کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف عدلیہ کی آزادی کو واپس لائے گی، بیرسٹر گوہر
معاشی بہتری کا اعتراف
قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کر رہی ہے اور معاشی بہتری کی رفتار پر حیران ہے، تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیپرلیس پالیسی: وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے پہلی ای سمری پر دستخط کردیئے
پنشن اصلاحات اور مستقبل کی حکمت عملی
محمد اورنگزیب نے کہاکہ پنشن اصلاحات پر بھی کام کر رہے ہیں، قرضوں میں ادائیگی کا بوجھ کم ہونے کی توقع ہے، دنیا پاکستان کے مائیکرو اکنامک استحکام سے مطمئن ہے، حکومت طویل المدتی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی عوام کیا سوچ رہے ہیں اور کیا کچھ ہوسکتا ہے؟ تہران یونیورسٹی کے پروفیسر کا بیان آگیا
بجٹ کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کم کرنے کی کوشش رہے ہیں، بجٹ صرف آمدن اور اخراجات کا نام نہیں بلکہ اسٹریٹجی بنانا ہوگی۔ ہمیں معاشی محاذ پر بھی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طوفان کے دوران چینی ہسپتال میں نایاب خون والی پاکستانی حاملہ خاتون کی محفوظ زچگی
فوری اصلاحات کا عمل
وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کررہی ہے اور شرح سود میں نمایاں کمی کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ مزید کہا کہ ایف بی آر میں انسانی مداخلت کم ہونے سے شفافیت آئے گی، ٹیکس نظام اور دیگر شعبوں میں اصلاحات لارہے ہیں، تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس جمع کرانے کا عمل آسان بنانا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طلاق کی افواہیں، مشیل اوبا کا موقف آگیا
نجی شعبے کا کردار
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت طویل المدتی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے، جبکہ نجی شعبہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی نے فیصل راٹھور کو وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئے نامزد کردیا
آئندہ بجٹ کی اہمیت
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ آئندہ بجٹ ملکی معیشت کے لیے اسٹریٹجک سمت کا تعین کرے گا، بجٹ صرف آمدنی اور اخراجات کا مجموعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں مستقبل کے لیے ایک واضح حکمت عملی بھی شامل ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کا کل طلب کیا گیا اہم اجلاس مؤخر
برآمدات پر توجہ
وزیر خزانہ نے برآمدات پر مبنی ترقی کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان کی معیشت 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، عالمی برادری پاکستان کی اقتصادی بحالی اور میکرو اکنامک استحکام کو تسلیم کر رہی ہے۔
اصلاحات کا تسلسل
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت موجودہ تعمیری اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے گی، جن میں ٹیکس نظام، توانائی کے شعبے، سرکاری اداروں کی اصلاحات اور وفاقی حکومت کی ساخت میں درستی شامل ہیں، تاکہ پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔








