تباہی نہیں دیکھ سکتے، یہ نہ ہو مارگلہ ہلز نیشنل پارک کو مکمل بند کرنے کی ہدایت کردیں، قائمہ کمیٹی
مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تعمیرات کا انکشاف
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت موسمیاتی تبدیلی حکام نے قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں 137 ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور عمارتوں کی تعمیر کا انکشاف کیا ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نے اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ کی عدم تشکیل پر برہمی کا اظہار کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت ایک ’’ضدی بچے ‘‘کی طرح کا کردار ادا کررہا ہے، احسن اقبال
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس
ڈان نیوز کے مطابق چیئر پرسن منزہ حسن کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نزہت صادق پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ترمیمی بل 2024 پر بحث ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پولیس کا سرچ آپریشن، 113 مشتبہ افراد گرفتار
وزارت موسمیاتی تبدیلی کی تجاویز
چیئر پرسن کمیٹی نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی نے نزہت صادق کا بل کچھ شقوں کے علاوہ منظور کرلیا ہے، گلیشیئرز سے متعلق کچھ شقوں کو چھوڑ کر بل کو منظور کیا گیا ہے، کیونکہ گلیشیئرز کا معاملہ صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
کمیٹی میں وزیر مملکت ڈاکٹر شذرہ منصب نے کہا کہ نزہت صادق کے بل میں لائی جانے والی ترامیم بہت اچھی ہیں، گلیشیئرز کا معاملہ صوبائی ہے، اس لیے اس بل میں گلیشیئرز کا حصہ شامل نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسما عباس کا جلدی علاج سے چہرہ متاثر، تصویر بھی شیئر کردی
بل کی منظوری
قائمہ کمیٹی نے نزہت صادق کا پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ترمیمی بل منظور کرلیا۔ جبکہ شاہدہ رحمانی کی عدم حاضری کی وجہ سے ان کا پیش کردہ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ترمیمی بل 2025 موخر کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد اپنے زندہ دل لوگوں کی وجہ سے مشہور ہے،مقامی باشندے بذلہ سنجی اور جگت بازی میں ثانی نہیں رکھتے، جی بھر کے ہنسی مذاق کرتے ہیں
اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ کی صورتحال
اجلاس میں اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ کی عدم تشکیل پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چار ماہ سے بورڈ ہی مکمل نہیں ہورہا۔ چیئر پرسن کمیٹی نے کہا کہ کیا پورے ملک سے آپ کو ماہرین نہیں مل رہے؟ بورڈ ممبرز کیلئے وزارت قانون کو کئی بار لکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھر چھوڑ کر جانے والے نوجوان کو موٹروے پولیس نے بس سے اتار کر خاندان کے حوالے کر دیا
مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی تعمیرات
اجلاس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی حکام نے کہا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں 137 ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور عمارتوں کی تعمیرات ہوئی ہیں۔ ان میں 26 ریسٹورنٹس، 22 ٹک شاپس، شکر پڑیاں کے علاقے میں 9 ریسٹورنٹس اور 4 کلب، 8 ہوٹلز اور 55 حکومتی عمارتیں شامل ہیں، جن کی تعمیر کی اجازت سی ڈی اے نے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے روسی شہریوں کے لیے 30 روزہ مفت ای ویزہ کا اعلان کر دیا
سی ڈی اے کی وضاحت
چیئر پرسن کمیٹی نے پوچھا کہ کیا سی ڈی اے نے ان عمارتوں کی تعمیر سے پہلے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو آگاہ کیا؟ ممبر ماحولیات سی ڈی اے نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ان ریسٹورنٹس کو نئے قوانین کے تحت اجازت دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 15 سال کی تھی جب ٹرمپ نے زیادتی کی کوشش کی، نئی ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر پر خاتون سے زیادتی کا الزام
نیشنل پارک کی حفاظت
سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ مارگلہ ہلز کی زوننگ اور ڈی مارکیشن پر کام ہورہا ہے اور وائلڈ لائف بورڈ کو انوسٹمنٹ لانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مارگلہ ہلز میں کمرشلائزیشن کے ایریاز مارک کریں گے۔
نیشنل پارک کی بندش کا خدشہ
چیئر پرسن کمیٹی نے کہا کہ گزشتہ کئی عرصے سے نیشنل پارک سے متعلق اداروں کی ایک میٹنگ نہیں ہوسکی۔ ہم مارگلہ ہلز کی تباہی نہیں دیکھ سکتے ہیں، یہ نہ ہو کہ ہم مارگلہ ہلز نیشنل پارک کو مکمل طور پر بند کرنے کی ہدایت کردیں۔








