پارٹی بڑی تحریک کی تیاری کرے، ساری زندگی جیل میں رکھ لیں نہیں جھکوں گا، عمران خان
عمران خان کا عزم
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ جو بھی ٹارچر کرلیں، غلامی تسلیم نہیں کروں گا۔ ساری زندگی جیل میں بھی رکھ لیں، میں نہیں جھکوں گا۔ پارٹی بڑی تحریک کی تیاری کرے۔
یہ بھی پڑھیں: 28 مئی کسی ایک سیاسی پارٹی کا دن نہیں، ہم تمام ہیروز کو سلام پیش کرتے ہیں : شیخ وقاص اکرم
جیل کے حالات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ آج بانی نے تین نکاتی پوائنٹس بھیجے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ عام قیدی کے حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔ آٹھ ماہ میں صرف ایک بار بچوں سے بات کرائی گئی ہے، جبکہ میری بہنوں کو ملاقات نہیں کرائی جا رہی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا پی ٹی سی ایل پنشنرز کے حق میں فیصلہ، 90 دن میں ادائیگی کا حکم
کتابوں کی بندش
علیمہ خان نے بیان کیا کہ ہم کتابیں پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جیل انتظامیہ انہیں روک لیتی ہے۔ بانی کے ذاتی ڈاکٹروں سے چیک اَپ نہیں کرایا جا رہا، توہین عدالت کی درخواستوں پر ججز کا حکم نہیں مانتے۔ عمران خان نے کہا کہ جو بھی فرعونیت یا یزدیت کا نظام ہے، وہ جو بھی ٹارچر کرلیں، میں غلامی تسلیم نہیں کروں گا۔
یہ بھی پڑھیں: انگریزوں کے زمانے میں چھانگا مانگاکا مصنوعی جنگل اور سیاحوں کے لیے ریل گاڑی
بشریٰ بی بی کا کردار
علیمہ خان کے مطابق، عمران خان نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے جیل میں رکھا گیا۔ ساری زندگی جیل میں بھی رکھ لیں، میں نہیں جھکوں گا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: رواں سال کے 100دنوں میں موٹرسائیکل اور کار چوری کی 4300 سے زائد وارداتیں
یوٹیوب ویڈیوز اور عوامی رائے
علیمہ خان نے کہا کہ کچھ یوٹیوبرز توقع کر رہے ہیں کہ بانی باہر نکلنے والے ہیں، ڈیل ہوگی، اور امریکن آگئے ہیں۔ عوام کے جذبات کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایسی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای میں 18 سالہ خواتین کو سرپرست کی اجازت کے بغیر پسند کی شادی کی اجازت، قانون میں تبدیلی آگئی
پارٹی کا پیغام
علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے پارٹی کے لیے پیغام بھیجا ہے کہ یہ نظریے کی جماعت ہے۔ بانی کے علاوہ بہت سے نوجوان جیل کاٹ رہے ہیں؛ یہ الیکٹیبلز کی پارٹی نہیں ہے، بلکہ ہمیں نظریے کا ووٹ ملا ہے۔ میں نے سب پر نظر رکھی ہوئی ہے، اور جو اس نظریے کے ساتھ نہیں ہیں، ان کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: گھریلو حالات سے دلبرداشتہ لڑکی نہر میں کود گئی
عدالتوں کا رویہ
علیمہ خان نے کہا کہ یہ باتیں کرتے وقت وہ غصے میں تھے۔ اب ججز کا حال دیکھیں، القادر کا کیس تین مہینے سے نہیں لگ رہا، جبکہ 9 مئی اور دیگر ضمانتوں کے کیس بھی زیرِ سماعت ہیں۔ ججز نے زبان دی کہ کیس لگائیں گے، لیکن انہوں نے نہیں لگائے۔ عمران خان نے واضح کردیا ہے کہ پارٹی تیاری کرے بڑی تحریک کی، اور لوگوں کو اسلام آباد نہیں بلاؤں گا، بلکہ پورے پاکستان میں تحریک چلائیں گے۔
عدلیہ کی حمایت
علیمہ خان نے کہا کہ ہم فیملی کے لوگ کل ہائی کورٹ جائیں گے اور ہم ججز کو سپورٹ کریں گے۔ کل تمام ممبران اسمبلی پنجاب کے لاہور ہائی کورٹ جائیں گے، اور یہاں تمام ایم این ایز اور پشاور کے ایم پی ایز اسلام آباد ہائی کورٹ آئیں گے تاکہ ہم ججز کو سپورٹ کر سکیں۔








