آپ سنِ اتحاد کے وکیل ہیں یا پی ٹی آئی کے؟ جسٹس مسرت ہلالی کا وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ
اسلام آباد میں کیس کی سماعت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے 10ویں ایڈیشن کے لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع
جسٹس مسرت ہلالی کا مکالمہ
جسٹس مسرت ہلالی نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا، "آپ سنی اتحاد کے وکیل ہیں یا پی ٹی آئی کے؟ کیا آپ کو پی ٹی آئی نے ان کی طرف سے بولنے کی اجازت دے رکھی ہے؟"
فیصل صدیقی نے وضاحت کی کہ "میں پی ٹی آئی کا وکیل نہیں ہوں۔" جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے انہیں جواب دیا, "صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ ایرانی حکام سے جلد ملاقات کے خواہش مند، انتظامیہ کو اہتمام کرنے کی ہدایت کردی
خصوصی نشستوں کا تنازع
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، لارجر بنچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے، اس دوران وکیل فیصل صدیقی نے یہ بھی بتایا کہ "سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے لیے درخواست دائر کی ہے۔" ن لیگ، پیپلزپارٹی، متحدہ اور جے یو آئی نے بھی درخواستیں دائر کیں، جن میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دی جائیں، جبکہ دوسری جانب یہ بھی درخواست کی گئی کہ مخصوص نشستیں ہمیں دی جائیں۔
جسٹس محمد علی مظہر کی مداخلت
جسٹس محمد علی مظہر نے فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے دریافت کیا کہ "یہ اصل کیس تھا؟" جس پر فیصل صدیقی نے وضاحت کی کہ "مخصوص نشستوں سے متعلق 78 نشستیں ہیں جن پر تنازع ہے۔"








