زرداری دور میں مشرف کی معزولی کی بات پر کیانی نے کیا ردعمل دیا؟ فرحت اللہ بابر کا کتاب میں انکشاف
کتاب کا تعارف
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) فرحت اللہ بابر کی جانب سے لکھی گئی کتاب ’دی زرداری پریذیڈنسی‘ میں اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے تعلیمی اداروں میں کچرے کے تلف کرنے کے پرانے طریقوں پر پابندی عائد کردی، خلاف ورزی پر جرمانے کا اعلان
جنرل پرویز مشرف کا استعفیٰ
کتاب میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی رضا مندی حاصل کرنے کے بعد جنرل پرویز مشرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، فرحت اللہ بابر نے اپنی یادداشت میں یہ بتایا کہ کس طرح ایوان صدر کے باہر ٹرپل ون بریگیڈ تعینات کرکے دباﺅ ڈالا گیا تاکہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025 کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری
ایوان صدر کا دباؤ
یہ کتاب زرداری کی پہلی مدت (2008 تا 2013) کے دوران صدارتی ترجمان کی حیثیت سے حالات و واقعات کا مشاہدہ کرنے کے بعد لکھی گئی ہے۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ زرداری نے پرویز مشرف کو معزول کرنے کے سلسلے میں پہلے جنرل کیانی کے ممکنہ ردعمل کا اندازہ لگایا۔ جنرل کیانی نے اعتراض نہ کیا اور آفتاب شعبان میرانی کو اگلا صدر بنانے کی تجویز بھی دی۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان
مواخذے کا مطالبہ
زرداری نے اپنے بااعتماد پارٹی ارکان کو صوبائی اسمبلیوں میں پرویز مشرف کے مواخذے کا مطالبہ کرنے کی قراردادیں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ میجر جنرل (ر) محمود علی درانی کے ذریعے ایک پیغام بھیجا گیا جس میں پرویز مشرف پر زور دیا گیا کہ وہ مستعفی ہو جائیں یا مواخذے کا سامنا کریں۔ پرویز مشرف ابتدا میں راضی نہ ہوئے لیکن بعد میں چند ہفتوں بعد مستعفی ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ عرب-اسلامی سمٹ میں واحد ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے
نواز شریف کی صدارت کی خواہش
کتاب میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ نواز شریف ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کے دوران بھی صدارت کے خواہش مند تھے۔ ایک غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف نے زرداری سے کہا کہ میری پارٹی سمجھتی ہے کہ مجھے صدر بننا چاہئے، جس پر زرداری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میری پارٹی بھی سمجھتی ہے کہ مجھے صدر بننا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی میں اضافہ، اونچے درجے کا سیلاب، ہائی الرٹ جاری
عدلیہ کے ساتھ تنازعہ
کتاب کے چوتھے حصہ میں زردای کے عدلیہ کے ساتھ تصادم کا احاطہ کیا گیا ہے۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق بینظیر بھٹو اور نہ ہی آصف زرداری نے جسٹس افتخار چودھری کی حمایت میں کسی طرح کا اظہار خیال کیا۔ زرداری کی رائے تھی کہ جسٹس چودھری آزادی کی آڑ میں دیگر مفادات کی تکمیل کے لیے بھی کام کرتے تھے۔
مارچ کا دباؤ
زرداری کو جسٹس چودھری کی بحالی کا وکالت کرتے ہوئے لاہور سے لانگ مارچ کے دوران اپنے وزراء حتیٰ کہ وزیراعظم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم زرداری شروع میں ثابت قدم رہے۔ ٹرپل ون بریگیڈ کی تعیناتی ایوان صدر کے اندر اس رات ہوئی جس رات مارچ اسلام آباد کے قریب پہنچا۔ فرحت اللہ بابر نے لکھا کہ اس ممکنہ چال نے شاید فوجی قبضے کا تاثر پیدا کیا ہو، لیکن ایسا بالکل نہیں تھا۔








