اے پی این ایس سندھ کا اجلاس، پی آئی ڈی کی جانب سے صوبے کے اخبارات کو نظر انداز کرنے پر اظہار تشویش
آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کا اجلاس
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کی سندھ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جاوید مہر شمسی کی صدارت میں منعقد ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم اپنے حصے کا ایک بوند پانی بھی نہیں چھوڑیں گے: اسحاق ڈار
تشویش کا اظہار
اراکین نے پی -آئی -ڈی کی طرف سے سندھ کے اخبارات کو نظر انداز کرنے اور بروقت ادائیگی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی -آئی -ڈی کے جاری کردہ اشتہارات کی جلد ادائیگی ممکن بنائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایران کا وفد امریکہ سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا
اشتہارات کی کمی
اجلاس میں اراکین نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ محکمہ اطلاعات سندھ کی طرف سے اخبارات و جرائد کو اشتہارات کا اجراء طے شدہ حجم کے برعکس 10 فیصد سے کم سطح پر آگیا ہے۔ اس کے علاوہ، اشتہارات کے اجراء میں اے پی این ایس رکن مطبوعات کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی چوک: وزیراعظم خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور صوابی کی طرف روانہ
مطالبات
اجلاس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ پرنٹ میڈیا کیلئے اشتہارات کا حجم 40 فیصد کی سطح تک بحال کیا جائے اور اے پی این ایس رکن مطبوعات کو ترجیح دی جائے۔ کمیٹی کے اراکین نے نان بجٹڈ اشتہارات کی ادائیگی کے نئے نظام کو مسترد کرتے ہوئے پرانے نظام کی بحالی کا مطالبہ کیا، تاکہ ان اشتہارات کی ادائیگی ماہانہ بنیاد پر محکمہ اطلاعات سندھ کی طرف سے کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: زہران ممدانی کے بارے وہ باتیں جو آپ نہیں جانتے، BBC سامنے لے آیا
پرنٹ میڈیا کا بحران
اجلاس نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ محکمہ اطلاعات سندھ کی طرف سے جاری کردہ اشتہارات کی ادائیگی میں تاخیر کے باعث پرنٹ میڈیا شدید بحران کا شکار ہے۔ اراکین نے مطالبہ کیا کہ عید سے قبل واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
شرکاء کی فہرست
اجلاس میں چیئرمین جاوید مہر شمسی، نائب چیئرمین یونس مہر (روزنامہ ہلچل)، سیکرٹری جنرل محمد اطہر قاضی، ممتاز علی پھلپوٹو (روزنامہ عوامی پرچار)، علی بن یونس (روزنامہ بیوپار)، خرم حسین (روزنامہ ڈان)، نجم الدین شیخ (روزنامہ دیانت)، قاضی مصطفی (روزنامہ عبرت)، حسینہ جتوئی (روزنامہ مومل)، زاہدہ عباسی (روزنامہ نؤسج)، امتیاز اطہر قاضی (روزنامہ تعمیرِ سندھ) اور شاہد ساٹی (روزنامہ وطن گجراتی) نے شرکت کی۔








