کیا عمران خان کو رہائی ملنی چاہئے؟مضمون نگار کا تبصرہ
جنگ کا تناظر: کیا عمران خان کی رہائی ضروری ہے؟
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) مضمون نگار نسیم حیدر کا کہنا ہے کہ ملک میں ہرچند ماہ بعد یہ بحث زور پکڑتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں اور تان یہاں آکر ٹوٹتی ہے کہ عمران خان کو رہائی ملنی چاہئے لیکن دونوں باتوں کے لئے ٹھوس وجوہات نہیں بتائی جاتیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ بارش کے باعث منسوخ
عمران خان کی رہائی: وجوہات اور ممکنہ اثرات
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اس مضمون میں یہی اجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اگر عمران خان کو رہائی نہ دی جائے تو کیوں؟ اور اگر رہائی دے دی جائے تو اس کے ملک پر اثرات کیا ہوں گے۔ پہلی بات تو یہ کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست اپنے مذاکرات کے علاوہ کسی اور کو یہ اختیار دینے پر تیار ہی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہ ہوئیں تو گڈز ٹرانسپورٹ بند کردیں گے، ڈمپر ایسوسی ایشن نے بھی دھمکی دیدی
متوقع سیاسی اثرات
حال ہی میں ہوئی بعض پیشرفت پر نظر ڈالی جائے تو کئی مواقع ایسے آئے جن میں بانی پی ٹی آئی چاہتے تو خود کو تبدیل شخص کی حیثیت سے منوا سکتے تھے۔ وہ نو مئی کا داغ دھو کر خود کو دس مئی کی صف میں کھڑے لوگوں میں شامل کراسکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے مالیاتی پالیسی کا اعلان کردیا
مسئلہ کشمیر اور پی ٹی آئی کی مؤقف
سوال یہ ہے کہ آخر عمران خان نے اپنے دور میں بھارت کے خلاف ایسا کیا اقدام کیا تھا جو شہباز شریف کرنے سے گریز کر رہے تھے؟ قوم کو یاد ہے کہ جب بھارت نے یکطرفہ اقدام کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت ختم کی تو عمران خان ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھے رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: ڈمپر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار ایف آئی اے کا اہلکار جاں بحق
عمران خان کی خاموشی کا سوال
کیا کوئی ہوشمند شاہ محمود قریشی کی بے اثر سفارتکاری کا موازنہ اسحاق ڈار جیسے صاحب بصیرت شخص کی سفارتی کوششوں سے کرسکتا ہے؟ کیا کشمیر پر عمران خان کی خاموشی کا موازنہ شہباز شریف سے کیا جاسکتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: گھریلو ناچاقی کے بعد 5 دن سے لاپتا جواں سال لڑکی کہاں سے ملی؟
اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات
یہ بھی حقیقت ہے کہ جنرل سید عاصم منیر کے بھارت کو تاریخی جواب نے عوام کا فوج پر مان قائم کردیا۔ پی ٹی آئی سے یہ سوال بھی بنتا ہے کہ جب بھارت کو ناکوں چنے چبوانے کا جشن منایا جا رہا تھا تو پی ٹی آئی نے کتنی ریلیاں نکالی؟
یہ بھی پڑھیں: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی کتاب کی رونمائی
عمران خان کی وزارت عظمیٰ کا اثر
بغیر شک کے، عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دوران پی ٹی آئی نے پاک فوج کے خلاف مہم چلائی، جس نے اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں عوامی رائے کو منفی کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حالیہ سرحد پار کارروائی کوئی جارحیت نہیں بلکہ اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے ایک ناگزیر قدم تھا، عمران اسماعیل
چیلنجز اور مستقبل
یہ سوال بھی جائز ہے کہ جب اتحادی جماعتیں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترقی پر مبارک بادیں دے رہی تھیں، پی ٹی آئی کے کتنے لیڈر خوش ہیں؟ کیا عمران خان کو اس لئے رہائی دی جائے کہ انہوں نے جرنیل کے ساتھ اخلاقیات کی پامالی کی؟
نتیجہ: عمران خان کی رہائی کی ضرورت
عمران خان کی رہائی آئندہ سیاسی چالوں اور معاشی حالات کے تناظر میں ضروری ہے۔ اگر انہیں آزادی ملی تو وہ مظاہروں کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔ حکومت کی معیشتی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لئے یہ انتہائی اہم ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام ہو۔








