کیا عمران خان کو رہائی ملنی چاہئے؟مضمون نگار کا تبصرہ
جنگ کا تناظر: کیا عمران خان کی رہائی ضروری ہے؟
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) مضمون نگار نسیم حیدر کا کہنا ہے کہ ملک میں ہرچند ماہ بعد یہ بحث زور پکڑتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں اور تان یہاں آکر ٹوٹتی ہے کہ عمران خان کو رہائی ملنی چاہئے لیکن دونوں باتوں کے لئے ٹھوس وجوہات نہیں بتائی جاتیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ کے اثرات: برطانیہ میں بیروزگاری بڑھنے کا خدشہ، کتنے افراد کی نوکریاں داؤ پر لگی ہیں؟ جان کر ہوش ٹھکانے آ جائیں۔
عمران خان کی رہائی: وجوہات اور ممکنہ اثرات
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اس مضمون میں یہی اجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اگر عمران خان کو رہائی نہ دی جائے تو کیوں؟ اور اگر رہائی دے دی جائے تو اس کے ملک پر اثرات کیا ہوں گے۔ پہلی بات تو یہ کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست اپنے مذاکرات کے علاوہ کسی اور کو یہ اختیار دینے پر تیار ہی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہر چیز تباہ ہوگئی، کوئی بھی ملک ساتھ دینے کو تیار نہیں، اسرائیل کے لیے کچھ کرو۔۔۔ اسرائیل کے 2 میئرز کھل کر بول پڑے، حقیقت میڈیا پر آ کر بتا دی
متوقع سیاسی اثرات
حال ہی میں ہوئی بعض پیشرفت پر نظر ڈالی جائے تو کئی مواقع ایسے آئے جن میں بانی پی ٹی آئی چاہتے تو خود کو تبدیل شخص کی حیثیت سے منوا سکتے تھے۔ وہ نو مئی کا داغ دھو کر خود کو دس مئی کی صف میں کھڑے لوگوں میں شامل کراسکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11: ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولر الزاری جوزف کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں شامل
مسئلہ کشمیر اور پی ٹی آئی کی مؤقف
سوال یہ ہے کہ آخر عمران خان نے اپنے دور میں بھارت کے خلاف ایسا کیا اقدام کیا تھا جو شہباز شریف کرنے سے گریز کر رہے تھے؟ قوم کو یاد ہے کہ جب بھارت نے یکطرفہ اقدام کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت ختم کی تو عمران خان ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھے رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اربوں روپے مالیت کے پلاٹس کی جعلی الاٹمنٹس، سی ڈی اے کے 5 افسران گرفتار
عمران خان کی خاموشی کا سوال
کیا کوئی ہوشمند شاہ محمود قریشی کی بے اثر سفارتکاری کا موازنہ اسحاق ڈار جیسے صاحب بصیرت شخص کی سفارتی کوششوں سے کرسکتا ہے؟ کیا کشمیر پر عمران خان کی خاموشی کا موازنہ شہباز شریف سے کیا جاسکتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: ملکی سیاسی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی بے چینی کا سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے نقشہ کھینچ دیا
اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات
یہ بھی حقیقت ہے کہ جنرل سید عاصم منیر کے بھارت کو تاریخی جواب نے عوام کا فوج پر مان قائم کردیا۔ پی ٹی آئی سے یہ سوال بھی بنتا ہے کہ جب بھارت کو ناکوں چنے چبوانے کا جشن منایا جا رہا تھا تو پی ٹی آئی نے کتنی ریلیاں نکالی؟
یہ بھی پڑھیں: میرپور خاص میں میڈیکل طالبہ کی خودکشی، کالج پرنسپل، ان کی اہلیہ سمیت 5 افراد کے خلاف مقدمہ درج
عمران خان کی وزارت عظمیٰ کا اثر
بغیر شک کے، عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دوران پی ٹی آئی نے پاک فوج کے خلاف مہم چلائی، جس نے اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں عوامی رائے کو منفی کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ سے متعلق معاملے میں پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، رانا ثنا اللہ
چیلنجز اور مستقبل
یہ سوال بھی جائز ہے کہ جب اتحادی جماعتیں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترقی پر مبارک بادیں دے رہی تھیں، پی ٹی آئی کے کتنے لیڈر خوش ہیں؟ کیا عمران خان کو اس لئے رہائی دی جائے کہ انہوں نے جرنیل کے ساتھ اخلاقیات کی پامالی کی؟
نتیجہ: عمران خان کی رہائی کی ضرورت
عمران خان کی رہائی آئندہ سیاسی چالوں اور معاشی حالات کے تناظر میں ضروری ہے۔ اگر انہیں آزادی ملی تو وہ مظاہروں کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔ حکومت کی معیشتی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لئے یہ انتہائی اہم ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام ہو۔








