پختونخوا میں 33 ارب روپے کے مفت سولرائزیشن منصوبے میں سنگین بے ضابطگیاں
پشاور میں سولر منصوبے کی بے ضابطگیاں
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبر پختونخوا حکومت کے آنے والے 33 ارب روپے مالیت کے مفت سولر منصوبے میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جلالپور پیروالا کے ڈی ایس پی لطیف نے دریا کے قدرتی راستے کو کھولنے کا کہا مگر سیاسی دباؤ پر انہی کو معطل کر دیا گیا: صحافی محمد عمیر
منصوبے کی قیمتوں میں تضاد
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، پی سی ون کے برعکس سولر یونٹ میں تبدیلیوں کے باوجود فی یونٹ قیمت تقریباً 2 لاکھ 4 ہزار روپے رکھی گئی ہے، جس نے منصوبے کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھادیے ہیں۔ چیف انجینئر نے آل ان ون سولوشن کی مخالفت کی تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر کی بارسلونا میں قیمتی گھڑی چھین لی گئی
ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی قیمت تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار روپے فی یونٹ ہونی چاہئے تھی۔ مزید برآں، خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے ٹینڈرنگ کے عمل کو "مس پروکیورمنٹ" قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے قطر سمیت دیگر ملکوں سے دھمکی آمیز کالز آ رہی ہیں، میری اہلیہ کو کہا گیا کہ طلاق دیدیں، طیب بلوچ کا نجی ٹی وی میں انکشاف
ٹینڈرنگ کے مسائل
دلچسپ بات یہ ہے کہ منصوبے کو 20 پیکیجز میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے 18 پیکیجز پر ایک ہی بولی آئی اور اس کو ہی اہل قرار دیا گیا۔ کمپنیوں کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: دعاء ملک نے انڈسٹری میں ہراسانی کا انکشاف کردیا، مشہور شخصیت ملوث
کمپنیوں کی بولیاں
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ایک اور کمپنی، جس نے دو پیکیجز کے لئے ہزارہ ڈویژن میں سب سے کم بولی دی، اس کی قیمتیں دیگر کمپنیوں سے 7 فیصد کم تھیں۔ سولر یونٹ کی اہم تبدیلیوں میں آل ان ون سولوشن کا اضافہ شامل تھا، جسے بعد ازاں ایک مخصوص کوڈ کے ساتھ پی سی ون میں شامل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 30 October 1947 کو یونیورسٹی گراﺅنڈ لاہور میں قائداعظمؒ کا فرمان: ’’کشمیر میں دشمن کامیابی حاصل نہیں کرپائے گا، دنیا جانتی ہے ہم سچائی پر ہیں‘‘
آل ان ون سولوشن کا مسئلہ
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ آل ان ون سولوشن صرف ایک کمپنی تیار کرتی ہے، وہ بھی حسبِ ضرورت اور پاکستان میں اس کا صرف ایک سپلائر موجود ہے۔ ایک کے سوا تمام بولی دہندگان نے ایک ہی برانڈ اور ماڈل کا آل ان ون سولوشن پیش کیا۔
سولر پیکیج میں بڑی تبدیلیاں
منصوبے پر خدشات اس وقت پیدا ہوئے جب سولر پیکیج میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں اور ایک "آل ان ون" یونٹ شامل کیا گیا۔ سولر ماہرین کے مطابق، آل ان ون یونٹ بیرونِ ملک صرف ایک کمپنی تیار کرتی ہے اور پاکستان میں اس کا صرف ایک ہی سپلائر موجود ہے۔








