پختونخوا میں 33 ارب روپے کے مفت سولرائزیشن منصوبے میں سنگین بے ضابطگیاں
پشاور میں سولر منصوبے کی بے ضابطگیاں
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبر پختونخوا حکومت کے آنے والے 33 ارب روپے مالیت کے مفت سولر منصوبے میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کے خلاف گندی اور گھٹیا مہم چلائی جا رہی ہے: عظمیٰ بخاری
منصوبے کی قیمتوں میں تضاد
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، پی سی ون کے برعکس سولر یونٹ میں تبدیلیوں کے باوجود فی یونٹ قیمت تقریباً 2 لاکھ 4 ہزار روپے رکھی گئی ہے، جس نے منصوبے کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھادیے ہیں۔ چیف انجینئر نے آل ان ون سولوشن کی مخالفت کی تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وہ عادات جو آپ کی شخصیت کے معیار پر پورا نہیں اترتیں، انکی اصلاح خوشگوار اور مسرت انگیز کام ہو سکتا ہے، خود کو بے وقعت سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں
ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی قیمت تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار روپے فی یونٹ ہونی چاہئے تھی۔ مزید برآں، خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے ٹینڈرنگ کے عمل کو "مس پروکیورمنٹ" قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردوں کو تربیت دی جاتی ہے، پاکستان نے جارحیت کا بھرپور انداز میں جواب دیا : عطاء تارڑ
ٹینڈرنگ کے مسائل
دلچسپ بات یہ ہے کہ منصوبے کو 20 پیکیجز میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے 18 پیکیجز پر ایک ہی بولی آئی اور اس کو ہی اہل قرار دیا گیا۔ کمپنیوں کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ 2025-26 کی شق وار منظوری کا عمل جاری
کمپنیوں کی بولیاں
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ایک اور کمپنی، جس نے دو پیکیجز کے لئے ہزارہ ڈویژن میں سب سے کم بولی دی، اس کی قیمتیں دیگر کمپنیوں سے 7 فیصد کم تھیں۔ سولر یونٹ کی اہم تبدیلیوں میں آل ان ون سولوشن کا اضافہ شامل تھا، جسے بعد ازاں ایک مخصوص کوڈ کے ساتھ پی سی ون میں شامل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں زیرسماعت کیس کی عدالتی دستاویز چوری
آل ان ون سولوشن کا مسئلہ
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ آل ان ون سولوشن صرف ایک کمپنی تیار کرتی ہے، وہ بھی حسبِ ضرورت اور پاکستان میں اس کا صرف ایک سپلائر موجود ہے۔ ایک کے سوا تمام بولی دہندگان نے ایک ہی برانڈ اور ماڈل کا آل ان ون سولوشن پیش کیا۔
سولر پیکیج میں بڑی تبدیلیاں
منصوبے پر خدشات اس وقت پیدا ہوئے جب سولر پیکیج میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں اور ایک "آل ان ون" یونٹ شامل کیا گیا۔ سولر ماہرین کے مطابق، آل ان ون یونٹ بیرونِ ملک صرف ایک کمپنی تیار کرتی ہے اور پاکستان میں اس کا صرف ایک ہی سپلائر موجود ہے۔








