سام آلٹمین کی نئی ڈیوائس فیصلہ کرے گی کہ آپ انسان ہیں یا نہیں
سام آلٹمین کا نیا منصوبہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایک چھوٹی دھاتی گیند جیسی چیز کی جانب گھورنے اور اس کی طرف سے آپ کی انسانیت کی تصدیق کا آئیڈیا کسی سائنس فکشن فلم کا بھیانک خیال محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین کے خیال میں حقیقی زندگی میں ایسا کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے سیلاب متاثرین کے لیے امداد و تعاون بڑھانے کی اپیل کردی
بائیومیٹرک ڈیوائس کی تفصیلات
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، یہی ان کی ایک اور کمپنی Tools for Humanity's World system کی نئی بائیومیٹرک ڈیوائس کا بنیادی خیال ہے۔ سام آلٹمین اس کمپنی کے شریک بانی ہیں اور اس کی جانب سے آنکھوں کو سکین کرنے والے ایک پورٹ ایبل سکینر Orb Mini کو متعارف کرایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے سلامتی کونسل میں غزہ میں مستقل جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کردی
انسانیت کی تصدیق کا عمل
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس سکینر سے لوگوں کو بہت فائدہ ہوگا۔ یہ سکینر ایک مستقبل کے سمارٹ فون کیمرے کی طرح نظر آتا ہے اور آنکھوں کو سکین کرکے آپ کی انسانیت کی تصدیق کرتا ہے، ساتھ ہی ایک منفرد ورلڈ آئی ڈی تیار کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالا جائے‘‘ وزیرداخلہ کا حوالہ ہنڈی مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم
بلاک چین پر محفوظ شناخت
یہ ایک بلاک چین میں سٹور کیا جانے والا آئی ڈی ٹوکن ہے جو یہ کہتا ہے کہ یہ فرد اصل انسان ہے اور آنکھوں کے سکین نے یہ ثابت کیا۔ سام آلٹمین کی کمپنی کا یہ دعویٰ بنیادی طور پر آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ارتقا کے پس منظر میں ایسا غلط بھی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل سیزن 10 کی افتتاحی تقریب کل کس سٹیڈیم میں کتنے بجے ہو گی؟ جانئے
حقیقی انسان کی شناخت
اب اے آئی کی جانب سے کتابیں، ڈیپ فیک آڈیوز، ویڈیوز اور دیگر مواد تیار کیا جا رہا ہے، اور یہ سکینر حقیقت میں انٹرنیٹ کی دنیا میں ثابت کرے گا کہ آپ حقیقی انسان ہیں، کوئی اے آئی ماڈل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تھائی لینڈ اور کمبوڈیا جنگ بندی مذاکرات کیلئے تیار ہوگئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی مارکیٹ میں بنگاہ
کمپنی کی جانب سے اس سال کے آخر تک 7,500 سکینرز کو امریکہ بھر میں فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ چونکہ یہ ایک گیند کی طرح ہے، لہذا اسے کسی بھی جگہ آسانی سے لے جایا جاسکتا ہے۔
پرائیویسی کا تحفظ
کمپنی کے مطابق، لوگوں کی آنکھوں کی تصاویر اور دیگر پرائیویسی فیچرز کا ڈیٹا محفوظ نہیں کیا جائے گا۔








