توہین عدالت؛ وزارت داخلہ، اسٹبلشمنٹ ڈویژن ایف آئی اے ملازمین کی ترقیوں کیلئے رضامند
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایف آئی اے ملازمین کی محکمانہ ترقیوں کے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت داخلہ اور اسٹبلشمنٹ ڈویژن سے ایف آئی اے ملازمین کی ترقیوں کے لیے رضامندی کا اظہار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کانگریس کی سرپرستی میں ’ہندو مہا سبھا‘ اور ’راشٹریہ سیوک سنگھ‘ وغیرہ ہتھیار جمع کررہی تھیں، ساہوکار روپے دے رہے تھے، یوں قیامت ٹوٹ پڑی۔
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ایف آئی اے ملازمین کی توہین عدالت درخواست پر سماعت کی۔ وزارت داخلہ اور اسٹبلشمنٹ حکام اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ عدالت کی جانب سے جاری کردہ آرڈر پر کیا عمل درآمد ہوا؟
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے حملے میں ایران کے کتنے فوجی جاں بحق ہوئے؟
ترقیوں پر اعتراض نہ ہونے کا اعلان
نمائندہ اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ ہمیں ملازمین کو ترقی دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، تاہم انٹرا کورٹ اپیل زیر التواء ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ زیر التواء انٹرا کورٹ اپیل کا ہمارے آرڈر پر کوئی اثر نہیں ہے۔
سماعت کی ملتوی
عدالت نے توہین عدالت کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔ عدالت نے ایف آئی اے کے کانسٹیبل سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر تک کے ملازمین کی ترقی کا حکم دے رکھا تھا。








