یومِ تکبیر پاکستان کی فتح کا دن ہے، ہم ایٹمی طاقت ہیں: رانا محمد قاسم نون
یومِ تکبیر: پاکستان کی فتح
لندن (مجتبیٰ علی شاہ) پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی اور چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا محمد قاسم نون نے لندن میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یومِ تکبیر کو پاکستان کی تاریخی فتح قرار دیا۔ ان کے ہمراہ معروف سماجی رہنما خرم ٹونی عباسی بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: بینک اکاؤنٹ رکھنے والوں کے لیے بری خبر، ایک غلطی سے عمر بھر کا پچھتاوا ہوسکتا ہے، فراڈ سے بچنے کے لیے چند اہم معلومات جانیے
پاکستان کی دفاعی صلاحیت
رانا محمد قاسم نون کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، اور یومِ تکبیر وہ دن ہے جب دنیا کو پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا ادراک ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے چند روز قبل پاکستان پر حملے کی کوشش کی، لیکن ہماری بہادر افواج نے دشمن کو بھرپور جواب دیتے ہوئے اس کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔
یہ بھی پڑھیں: اکیلا پن صرف درد یا مشکل نہیں زندگی کی حقیقت، فکری تجربہ اور اخلاقی تعلیم بھی ہے
افواج پر فخر
انہوں نے کہا کہ “ہمیں اپنی افواج اور سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر پر فخر ہے۔ آج پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے، اور پوری قوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم زندہ قوم ہیں اور ہر محاذ پر اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں: ہنٹربائیڈن کی معافی پر نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل بھی آ گیا
کشمیری کمیونٹی کے ساتھ ملاقاتیں
بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی، انہوں نے بتایا کہ وہ برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں کشمیری کمیونٹی سے ملاقاتیں کر چکے ہیں، اور دنیا بھر کے کشمیری مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تائید کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے این پی کے مقامی رہنما قاتلانہ حملے میں جاں بحق
آرمی چیف کی قیادت
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے معروف سماجی رہنما خرم ٹونی عباسی نے کہا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے جس حکمتِ عملی سے دشمن کو شکست دی، وہ ایک مثال بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان فوج ملک کے اندرونی امن اور عالم اسلام کے مسائل پر نظر رکھے ہوئے ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
قوم کا عزم
انہوں نے کہا“ہم اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، اور بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ پاکستان کی عوام اپنی فوج کے شانہ بشانہ ہے۔ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔”
دعاؤں کا اختتام
پریس کانفرنس کا اختتام وطن عزیز کی سلامتی، خوشحالی، اور کشمیر کی آزادی کے لیے دعا کے ساتھ کیا گیا۔








