جھوٹ بولنے کا کوئی فائدہ نہیں، 11 بجے ہسپتال جاتا، سب مل کر چائے پیتے، ایک ڈاکٹر ڈیوٹی پر رہتا اور “ہم رنگ” کھیلتے، ہارنے والی ٹیم چرغہ منگواتی
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 182
یہ بھی پڑھیں: خواجہ سعد رفیق نے امریکہ اور اسرائیل کو اسلاموفوبیا کا اصل ذمہ دار قرار دے دیا
اجلاس طلب کرنا
دفتر واپس جا کر اگلے روز تمام سیکرٹری یونین کونسلز کا اجلاس طلب کیا اور مشتاق کی یونین کونسل میں جو دیکھا تھا ان کے سامنے رکھا اور انہی سے رائے طلب کی کہ کیا کرنا چاہیے۔ میرا یقین ہے کہ "مشاورت کے عمل سے جماعت اور ساتھیوں میں اتحاد پیدا ہوتا ہے۔" مشتاق کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے اور اس کے والد مرحوم کی وجہ سے بھی لوگ اس کی عزت کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر 5 سال کے لیے ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد (سی یو آئی) تعینات
اجلاس کا نتیجہ
سب نے متفقہ طور پر کہا؛ "سر! اسے ایک موقع دیں، یہ تمام ریکارڈ اپ ڈیٹ کرے گا۔" میں نے ان کی بات سے اتفاق کرتے کہا؛ "پندرہ دن کا وقت دیتا ہوں۔ آپ میں کچھ سیانے لوگ اس کی مدد کریں اور یہ ریکارڈ اپ ڈیٹ کرکے اطلاع کرائے، اس کے بعد فیصلہ ہوگا کہ کیا کارروائی کرنی ہے یا نہیں۔"
مختصر یہ کہ پندرہ بیس دن میں مشتاق کا ریکارڈ اپ ڈیٹ ہوا۔ غلام محمد نے سب اچھا کی رپورٹ کی۔ جرمانے کے طور پر مشتاق نے سب کو میاں جی دال کھلائی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پی آئی اے انجینئرنگ یونٹ پاک فضائیہ کو فروخت کرنے کا فیصلہ
یقین اور ساکھ
مجھے یہ فائدہ ہوا کہ سب کو معلوم ہو گیا کہ یہ شہری بابو کبھی بھی کہیں بھی پہنچ سکتا ہے، لہذا اس سے جھوٹ بولنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مشتاق کا ریکارڈ جس طرح سے مکمل کرایا، میرے حوالے سے یہ بات بھی واضح کر دی کہ یہ شخص کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے والا نہیں ہے بلکہ مل کر کام کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ ان باتوں نے آگے چل کر میری اچھی ساکھ بنانے میں بہت مدد کی۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی ایف آئی آرز کا معاملہ: سپریم کورٹ نے فواد چودھری کا کیس دوبارہ ہائیکورٹ بھجوا دیا
بنیادی مرکز صحت کا دورہ
ایک دن ادریس بھائی دو پہر کے وقت آئے اور مجھے اپنے ساتھ بنیادی مرکز صحت لالہ موسیٰ لے گئے، جو میرے دفتر سے تقریباً ملحقہ ہی تھا۔ بنیادی صحت مرکز کے انچارج ڈاکٹر سہیل تھے جبکہ چائیلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر شفقت محمود اور تیسرے ڈاکٹر خالد منہاس تھے۔ چند ہی ملاقاتوں میں ہماری بے تکلفی ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن کے ایکس پیغام پر علی محمد خان کا جواب، بھارت کے خلاف قوم متحد
دوستی کی ابتدا
اس زمانے میں میرے دفتر میں زیادہ کام نہ تھا اور ہسپتال میں بھی کم مریض آتے تھے۔ 11 بجے میں ہسپتال جاتا، سب مل کر چائے کا کپ پیتے، ایک ڈاکٹر ڈیوٹی پر رہتا اور "ہم رنگ" (تاش کا ایک کھیل) کھیلتے۔ ہارنے والی ٹیم چرغہ منگواتی۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ہسپتالوں میں سٹیٹ آف دی آرٹ ریفرل سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ، وزیراعلیٰ مریم نوازنے جامع پلان طلب کر لیا
مزید ڈاکٹروں کا اضافہ
2 بجے واپس اپنے دفتر آ جاتا تھا۔ ڈاکٹر شفقت کا کچھ عرصہ بعد تبادلہ لالہ موسیٰ سے پانچ کلو میٹر دور بنیادی مرکز صحت "گنجہ" ہو گیا۔ وہ وہاں سے بھی گیارہ ساڑھے گیارہ بجے تاش کھیلنے لالہ موسیٰ پہنچ جاتے۔ ان کی جگہ ڈاکٹر خالد بٹ آگئے، جنہوں نے ایک دن ادریس بھائی کی فرمائش پر لطیفہ سنایا تو وہ میرے گرویدہ ہو گئے۔ پھر ڈاکٹر ذوالفقار بھی ٹرانسفر ہو کر یہاں آ گئے، تو ہماری یہ محفل زور و شور سے سجنے لگی۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر: تیندوا گھر سے 8 سالہ بچی کو اٹھا کر لے گیا، بچی مردہ حالت میں برآمد
محفل کی رونق
ہم تاش کھیلتے اور اس دوران ڈاکٹر خالد بٹ ڈیوٹی دیتے تھے۔ ڈاکٹر ذوالفقار اور راقم پارٹنر ہوتے تھے جبکہ ڈاکٹر شفقت اور ڈاکٹر سہیل۔ رنگ کی خوب بازی سجتی۔ اکثر ڈاکٹر شفقت اور ڈاکٹر سہیل ہارتے، اور ڈاکٹر سہیل کی تلملاہٹ دیکھنے والی ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: انکم ٹیکس کیسز: سندھ ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار
ڈاکٹر رولا
ڈاکٹر سہیل کو بہت شور مچانے اور بولنے کی عادت کی وجہ سے میں نے اُسے "ڈاکٹر رولا" کا نام دیا اور شروع میں اس نے اس نام پر اعتراض کیا لیکن دیوانے بھلا کہاں اس کی بات سنتے۔ وہ دوستوں میں اسی نام سے مشہور ہو گیا۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








