وزارت کھیل نے بی سی بی صدر فاروق احمد کو عہدے سے ہٹادیا
وزارت کھیل کا فیصلہ
ڈھاکہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت کھیل نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے سربراہ فاروق احمد کو صدارت سے ہٹا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، اغواء ہونیوالی 3 سالہ بچی قتل کردی گئی
عدم اعتماد کا خط
کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق وزارت کھیل نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ فاروق احمد کے خلاف 8 بورڈ ڈائریکٹرز کی جانب سے بھیجا گیا عدم اعتماد کا خط موصول ہوا، جس میں بنگلادیش پریمیئر لیگ سے متعلق حقائق پر مبنی ایک تحقیقاتی رپورٹ بھی پیش کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مرغی اور انڈوں کی قیمت میں اضافہ ہو گیا
تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ
بورڈ ڈائریکٹر کی جانب سے فاروق احمد کے خلاف موصول ہونے والے عدم اعتماد کے خط اور بنگلادیش پریمئیر لیگ (بی پی ایل) سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ان کی بطور قومی اسپورٹس کونسل کے نمائندے نامزدگی منسوخ کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بی آئی ایس پی کے تحت مستحق خواتین کے لیے خوشخبری، سہ ماہی قسط میں ایک ہزار روپے اضافہ
صدارت کا مختصر دورانیہ
فاروق احمد کو وزارت کھیل نے 21 اگست 2023 کو بنگادیش کرکٹ بورڈ (بی سی پی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کیا تھا اور اسی دن وہ صدر منتخب ہوئے تھے، ان کا دورِ صدارت صرف 9 ماہ اور 8 دن پر محیط رہا۔
یہ بھی پڑھیں: کوٹ لکھپت جیل سے پی ٹی آئی کے لیڈران کا مشترکہ خط، شاہ محمود قریشی کی رہائی کا مطالبہ
عدم اعتماد پر دستخط کرنے والے ڈائریکٹرز
عدم اعتماد پر دستخط کرنے والے ڈائریکٹرز میں ناظمالعبیدین فہیم، محبوبالانعام، قاضی انعام احمد، فہیم سنہا، صلاحالدین چوہدری، افتخار رحمان، سیفالرحمن ثُوَبان چوہدری اور منجور عالم شامل ہیں جبکہ سابق کپتان اکرم خان واحد ڈائریکٹر تھے جنہوں نے خط پر دستخط نہیں کیے۔
الزامات کی تفصیلات
بی سی بی ڈائریکٹرز نے صدر فاروق احمد پر آئینی خلاف ورزیوں اور مشورہ لیے بغیر فیصلے کرنے کے الزامات لگائے، ان کا کہنا ہے کہ 2024-25 کے بنگلادیش پریمئیر لیگ ایڈیشن میں فرنچائزز "دُربار راجشاہی" اور "چٹاگانگ کنگز" کو منظوری دیتے وقت بھی ضروری جانچ پڑتال نہیں کی گئی۔








