وزارت کھیل نے بی سی بی صدر فاروق احمد کو عہدے سے ہٹادیا
وزارت کھیل کا فیصلہ
ڈھاکہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت کھیل نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے سربراہ فاروق احمد کو صدارت سے ہٹا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 8ویں جماعت کی طالبہ کی 40 سالہ شخص سے شادی
عدم اعتماد کا خط
کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق وزارت کھیل نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ فاروق احمد کے خلاف 8 بورڈ ڈائریکٹرز کی جانب سے بھیجا گیا عدم اعتماد کا خط موصول ہوا، جس میں بنگلادیش پریمیئر لیگ سے متعلق حقائق پر مبنی ایک تحقیقاتی رپورٹ بھی پیش کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بحرین میں ڈرون حملے کے بعد کم از کم 32 افراد زخمی
تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ
بورڈ ڈائریکٹر کی جانب سے فاروق احمد کے خلاف موصول ہونے والے عدم اعتماد کے خط اور بنگلادیش پریمئیر لیگ (بی پی ایل) سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ان کی بطور قومی اسپورٹس کونسل کے نمائندے نامزدگی منسوخ کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی کامیاب سفارتکاری نے بھارت کو عالمی منظرنامے پر آؤٹ کلاس کر دیا
صدارت کا مختصر دورانیہ
فاروق احمد کو وزارت کھیل نے 21 اگست 2023 کو بنگادیش کرکٹ بورڈ (بی سی پی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کیا تھا اور اسی دن وہ صدر منتخب ہوئے تھے، ان کا دورِ صدارت صرف 9 ماہ اور 8 دن پر محیط رہا۔
یہ بھی پڑھیں: آخری چند دن دسمبر کے۔۔۔
عدم اعتماد پر دستخط کرنے والے ڈائریکٹرز
عدم اعتماد پر دستخط کرنے والے ڈائریکٹرز میں ناظمالعبیدین فہیم، محبوبالانعام، قاضی انعام احمد، فہیم سنہا، صلاحالدین چوہدری، افتخار رحمان، سیفالرحمن ثُوَبان چوہدری اور منجور عالم شامل ہیں جبکہ سابق کپتان اکرم خان واحد ڈائریکٹر تھے جنہوں نے خط پر دستخط نہیں کیے۔
الزامات کی تفصیلات
بی سی بی ڈائریکٹرز نے صدر فاروق احمد پر آئینی خلاف ورزیوں اور مشورہ لیے بغیر فیصلے کرنے کے الزامات لگائے، ان کا کہنا ہے کہ 2024-25 کے بنگلادیش پریمئیر لیگ ایڈیشن میں فرنچائزز "دُربار راجشاہی" اور "چٹاگانگ کنگز" کو منظوری دیتے وقت بھی ضروری جانچ پڑتال نہیں کی گئی۔








